ثاقب نثار مبینہ آڈیو لیک کیس ، درخواست گزار کے لیے مشکل کھڑی ہوگئی

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ ہمیں کوئی اور استعمال کررہا، جبکہ یہ کیس عدلیہ کے خلاف بڑے پیمانے کی گیم ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو لیک کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ میرے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ میں کسی لیگی رہنما کے ساتھ گھوم رہا ہوں جبکہ اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا ہے کہ صرف ایک کیس کے لیے یہ پراکسی وار لڑی جارہی ہے۔

ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر معاونت کیلئے پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

ملالہ یوسفزئی کی امریکی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات

بھارت میں کمپنی سی ای او  نے اچانک 900 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کردیا

ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات کیلئے درخواست سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر صلاح الدین احمد نے دائر کی ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید کا دوران سماعت کہنا تھا کہ درخواست آرٹیکل199 کے تحت دائر کی گئی ہے، یوں لگتا ہے یہ پراکسی درخواست ہے جو انہوں نے دائر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر نہیں ہونا چائیے کہ درخواست گزار کسی اور کا کیس لڑرہے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ ہمیں کوئی اور استعمال کررہا، یہ ایک عدلیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر گیم جاری ہے ، کبھی کوئی آڈیو، کبھی کوئی بنایا گیا ڈاکومنٹ ریلیز کردیا جاتا ہے۔

عدالت کی معاونت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا کہ پتہ لگنا چاہئے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو کیوں ہٹایا گیا؟ رقم سے بھرے ہوئے سوٹ کیس کس کو جاتے رہے؟ جو بھی زندہ لوگ ہیں ان سب کا احتساب کرلیتے ہیں، چُن کر صرف ایک وزیراعظم کیلئے پراکسی بن کر کیوں عدالت آئے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کو مخاطب کرکے کہا کہ یہ بتائیں یہ عدالت کس کو تحقیقات کیلئے ہدایت دے؟ چیف جسٹس نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کی کاپیاں دکھاتے ہوئے کہا کہ میری تصویر پھیلائی جاتی ہےکہ میں کسی لیگی کےساتھ پھررہا ہوں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ثاقب نثار کی آڈیو کیا کسی مستند سورس سے آئی؟ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں وہ آڈیو مستند ہے؟ آپ کیلئے میں نے بھی کچھ تیار کرکے رکھا ہے، کیا اب اس پر بھی تحقیقات کرانےلگ جائیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آج کل جدید ٹیکنالوجی ہے،کوئی بھی آڈیو ویڈیو بن سکتی ہے، کوئی بھی آڈیو بنا کر کہہ دے کہ اس پر تحقیقات کریں، اس آڈیو پر تحقیقات شروع کردیں تو زیر التوا اپیلوں پر کیا اثر پڑے گا؟

اس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا کہ میں یہی کہہ رہاہوں ساری چیزیں گھوم پھر کر ایک اپیل تک جاتی ہیں، سزا کے خلاف ایک اپیل اس ہائیکورٹ میں چل رہی ہے، اس ایک اپیل کیلیے پوری عدلیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔

درخواست گزار صلاح الدین ایڈووکیٹ جن کے کیسز ہیں وہ عدالت نہیں آئے، میرا موقف یہ ہے کہ عدالتوں کو متنازعہ کیا جارہا ہے، عدلیہ تحقیقات کروا کر یہ سلسلہ روک سکتی ہے۔

متعلقہ تحاریر