آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان میں مقیم مہاجرین کی پاکستان واپس شروع

ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کا کہنا ہے پہلے روز 30 خاندان وطن واپس پہنچے ہیں جن کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔

شمالی وزیرستان کے آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان میں مقیم مہاجرین کی سات سال بعد وطن واپسی، پاک افغان بارڈر غلام خان پر متاثرین کیلئے رجسٹریشن پوائنٹ قائم کر دیا گیا ہے جہاں انے والے تمام خاندانوں کی رجسٹریشن اور نادرا سے تصدیق کا عمل مکمل کیا جا ئے گا۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران افغانستان میں مقیم متاثرین کی سات سال بعد وطن واپسی کیلئے علام خان باڈر پر تمام انتظامات مکمل کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں فلمایا گیا ڈرامہ پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں نشر ہوگا

غضنفر بلور اے این پی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل

ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد علی خان نے پاک افغان بارڈر پر میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے روز تیس کے قریب متاثرین خاندان پاک افغان بارڈر غلام خان پر پہنچے، جن کے استقبال کیلئے صوبائی وزیر ریلیف، بحالی و آباد کاری اقبال وزیر، ڈپٹی کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کے اہلکار، پی ڈی ایم اے کا عملہ، نادرا کے اہلکار اور محکمہ صحت کا عملہ پہلے سے موجود تھا۔

بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ افغانستان میں موجود تمام متاثرین خاندانوں کو واپس لایا جا رہا ہے جس کو بنوں، لکی مروت، پشاور اور ڈی ائی خان میں بسایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن لوگوں کے علاقے کلیئر ہیں انہیں اپنے علاقوں میں بھیجا جائے گا۔

دریں اثنا ء پی ڈی ایم اے خیبر پختونخواہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ افغانستان سے آنے والے ہر رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ خاندان کو ماہوار 12 ہزار بطور نقد امداد اور اٹھ ہزار راشن الاؤنس کے طور پر دیے جائیں گے۔

پی ڈی ایم اے نے پاک افغان بارڈر پر متاثرین کیلئے خوراک اور ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی کیا ہوا تھا جبکہ سیکورٹی کیلئے پاک فوج کے جوان بھی سرحد پر موجود ہیں جن کی نگرانی میں متاثرین کو بنوں وغیرہ میں منتقل کیا جارہا ہے۔

متعلقہ تحاریر