بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی ہار، وزیراعظم نے اپنے ہی وزراء کی نفی کردی

عمران خان نے خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کی وجہ غلط امیدواروں کا انتخاب قرار دیا ہے۔

خیبر پختون خوا کے 17 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے، جس میں پی ٹی آئی کی واضح شکست کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بلدیاتی انتخابات میں امیدواروں کے غلط انتخاب کو شکست کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے، جبکہ گذشتہ روز وفاقی وزراء اور پی ٹی آئی کے ایم این ایز کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ہار کی بنیادی وجہ مہنگائی بنی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ "پی ٹی آئی نے کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں جس کی قیمت چکانا پڑی ہے۔غلط امیدواروں کا انتخاب بڑی وجہ ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

کون کہتا ہے پارٹی میں کرپشن نہیں؟ پی ٹی آئی رہنما کے اہم انکشافات

کامران خان کے وزیراعظم عمران خان سے اختلافات سامنے آگئے

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "اب سے میں ذاتی طور پر پی ٹی آئی کی لوکل گورنمنٹ انتخابات کی حکمت عملی کی نگرانی کروں گا، کے پی کے کے دوسرے مرحلے کے ایل جی انتخابات کی اور پورے پاکستان میں ایل جی انتخابات کی نگرانی کروں گا۔ ان شاء اللہ پی ٹی آئی مضبوط ہو کر سامنے آئے گی۔”

کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ کا عمل 19 دسمبر کو ہوا تھا۔ صوبے بھر میں پہلی بار لوگوں نے تحصیل چیئرمینوں اور میئرز کے انتخاب کے لیے براہ راست ووٹ دیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان 24 دسمبر کو سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔

تاہم غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق جے یو آئی (ف) نے بڑی تعداد میں سیٹوں میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کو بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں شدید دھچکا لگا ہے۔

اب تک کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج

44 تحصیل کونسلوں کے نتائج کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) 15 نشستوں کے ساتھ آگے ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ آٹھ تحصیلوں میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے اب تک چھ تحصیلوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دو نشستوں پر جیتنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور تحریک اصلاح پاکستان نے ایک ایک نشست کامیابی حاصل کی ہے۔

غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جے یو آئی (ف) نے صوبائی دارالحکومت پشاور اور کوہاٹ کی میئر شپ بھی جیت لی ہے۔ مردان میں اے این پی کے میئر کے امیدوار نے انتخابات میں کلین سویپ کیا۔

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کم از کم 37,000 امیدوار ہزاروں نشستوں پر مقابلے کے لیے میدان میں اترے تھے۔ ان میں سے تقریباً 700 نے 60 سے زائد تحصیل چیئرمین اور میئرشپ کے عہدوں کے لیے مقابلہ کیا۔

پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، خیبر، مہمند، مردان، صوابی، کوہاٹ، کرک، ہنگو، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان، ٹانک، ہری پور، بونیر اور باجوڑ کے اضلاع میں پولنگ ہوئی۔ دوسرے مرحلے میں باقی 18 اضلاع کے لیے 16 جنوری کو پولنگ ہوگی۔

متعلقہ تحاریر