480 ارب روپے کے گردشی قرضوں سمیت 4 کرائسس ورثے میں ملے، وزیراعظم
عمران خان کا کہنا ہے کہ سیاست میں چور ڈاکوؤں کے خلاف جہاد کے لیے آیا ہوں ، این آر او مانگنے والوں کو کبھی این آر او نہیں ملے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت کو چار کرائسس ورثے میں ملے تھے ، کہتے ہیں کورونا کرائسس صدی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، امریکا نے کورونا کے اثرات ختم کرنے کے لیے 6000 ارب ڈالر خرچ کیے، حکومتی اقدامات سے کارپوریٹ سیکٹر نے 980 ارب روپے کا منافع کمایا۔
اپنی حکومت کی ترجیحات بیان کرتے اور عوام کے سوالات کے جواباب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے اسے چار کرائسس ورثے میں ملے تھے۔ سب سے بڑا بحران یہ تھا کہ پاکستان بینک کرپٹ تھا ، قرضے دینے کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر سب سے کم تھے جو ڈالر میں ہوتے ہیں۔ بجلی کے گردشی قرضے 480 روپے ارب تھے۔ افغانستان کا مسئلہ آگیا جیسے ہی گورنمنٹ کی تبدیلی آئی وہاں پر ، لوگوں نے اس خوف میں کہ حکومت وہاں کی 70 فیصد ایڈ پر چلتی تھی ، کہیں بیٹھ نہ جائے انہوں نے ڈالر خریدا شروع کردیے ، پاکستان سے ڈالر افغانستان جانا شروع ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے
ہمارا نظام انصاف پروسیجر کا پابند ہے، قانون دان جبران ناصر
وفاقی وزیر داخلہ کی کالعدم ٹی ٹی پی کو مشروط مذاکرات کی پیشکش
سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہنا تھا کہ کورونا کا کرائسس صدی کا سب سے بڑا کرائسس ہے ۔ اس سے ساری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ ساری دنیا میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، تیل کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ "کارپوریٹ سیکٹر میں 980 ارب روپے کا ریکارڈ منافع آیا ، انہیں اپنی ورکرز کی تنخواہیں بڑھانا چاہیے۔ بڑے صنعت کاروں کو بلا کر کہوں کہ اپنے ورکرز کی تنخواہیں بڑھائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات سے کسانوں کی انکم میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ کیونکہ چار فصلوں کی پیداوار ریکارڈ ہوئی ہے اور اس کی قیمت بھی کسانوں کو ریکارڈ ملی ہے۔
اپوزیشن کے رویے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کئی ایشو لوگوں کے سامنے آتے ہیں ، جن کے جواب وہ مجھ سے سنناچاہتے ہیں ، اصولاً تو یہ مجھے پارلیمنٹ کے اندر جواب دینے چاہئیں ، بدقسمتی ہے کہ پارلیمنٹ میں این آر او کی ڈیمانڈ کرنے والے مجھے بولنے نہیں دیتے، اس لیے میں اپنی عوام سے رابطے کا یہ طریقہ نکالا ہے۔
عمران خان کا کہنا ہے جس مقصد کے لیے یہ ملک بنا تھا ، جب تک ہم اس مقصد کے لیے نہیں چلیں گے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔
راولپنڈی سے سیدہ ناز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کل موبائل فون کا زمانہ ہے ، مجھے صبح ایک گھنٹے میں اپنے موبائل فون پر ساری انفارمیشن مل جاتی ہیں ، مہنگائی مجھ کئی دفعہ راتوں کو جگا دیتی ہے۔ کس طبقے پر کیا گزر رہی ہے مجھے اس کا علم ہے۔ مہنگائی اس وقت دنیا کا مسئلہ ہے، مہنگائی صرف پاکستان کا ایشو نہیں ہے، امریکا میں گذشتہ 40 سالوں کے دوران سب سے زیادہ مہنگائی آئی ، یورپ میں گذشتہ 30 سالوں کے دوران سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم جو چیزیں کو ایکسپورٹ کررہے تھے اور جو خرید رہے تھے ان میں اتنا بڑا خسارہ تھا ، پاکستان کی تاریخ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سب سے زیادہ ہمیں ملا ۔ ہمیں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں ملا۔ اس سے سارا پریشر روپے پر پڑ گیا ، کیونکہ ڈالر مہنگا ہو گیا ۔ اس لیے جو چیزیں ہم امپورٹ کرتے ہیں وہ روپے کے مقابلے میں ہمیں مہنگی ملتی ہے ۔ اب جو مہنگائی کی لہر آئی ہے وہ کورونا کی وجہ سے آئی ہے۔ اس میں پاکستان ایک ملوث نہیں ہے۔ ہم نے عوام کی بھلائی کے لیے 8 ارب ڈالر خرچ کیا۔ امریکا اب تک 6 ہزار ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔









