جیو اور بول نیوز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینگ پھنسا لیے

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے ایف آئی آر درج ہونے پر معاملہ عدالت میں آ جاتا ہے اور عدالت اس حوالے سے اپنا فیصلہ کرتی ہے، کسی شہری کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی پر غداری کا لیبل لگائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بول ٹی وی کی جانب سے جیو نیوز چینل پر غداری کے الزامات کے تحت کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے بول ٹی وی چینل پر پیمرا کی جانب سے جرمانہ کرنے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر جیو نیوز کے وکیل کا کہنا تھا کہ بول نیوز نے الزام لگایا کہ جیو نیوز غدار ہے، ہمیں کہا گیا کہ ہم خفیہ اداروں اور پاکستان کے خلاف ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے بول ٹی وی کے وکیل سے دریافت کیا کہ "کیا ان کی جانب سے میر شکیل الرحمٰن اور جیو نیوز کو غدار وطن کہا کیا۔؟”

یہ بھی پڑھیے

پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کا حملہ، 5 جوان شہید

راحیل شریف نے نوازشریف سے ایکسٹینشن مانگی تھی، عرفان صدیقی کا دعویٰ

جس پر بول نیوز کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے تو کسی کو غداری وطن نہیں کہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے نہیں کہا ہے آپ جس ادارے کے وکیل بن کر آئے ہیں اس ادارے کے پروگرامز میں جیو نیوز کو غدار کہا گیا ہے۔ آپ کے تحریری جواب میں آپ نے اقبال جرم کیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ "اسٹیٹ صرف جرم ثابت ہونے پر کسی کو غدار قرار دیتی ہے۔ کسی کو کوئی حق نہیں کہ دوسرے کو ٹی وی پر بیٹھ کر غدار قرار دے۔”

جیو نیوز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایک بار نہیں بول ٹی وی نے مختلف پروگرامز میں جیو نیوز پر غداری کا الزام لگایا ہے۔ جس پر بول نیوز کے وکیل کا موقف تھا کہ میر شکیل الرحمٰن اور جیو نیوز کے خلاف پورے پاکستان میں 63 ایف آئی آر توہین رسالت کے حوالے سے درج ہوئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونا زیر التوا معاملہ ہے، اور کوئی ایف آئی آر کی بنیاد پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔

وکیل بول نیوز ایڈوکیٹ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ جیو نیوز کے کسی اینکر پرسن پر بول نیوز نے توہین رسالت کا الزام نہیں لگایا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کویہ حق نہیں کہ وہ کسی اور شہری کو غدار قرار دے جب تک کہ ریاست اس شہری کے خلاف ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ الزام ثابت نہ کرے۔

پیمرا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بول نیوز نے ضابطہ اخلاق کی بہت سی شقوں کی دھجیاں بکھیر دیں ہیں جس پر اس اہم کیس میں بول نیوز پر 21 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

بول نیوز کے وکیل کا موقف تھا کہ جیو نیوز کیخلاف ایف آئی آر درج ہوئیں جسے بول نیوز نے رپورٹ کیا۔

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر درج ہونے پر معاملہ عدالت میں آ جاتا ہے اور عدالت اس حوالے سے فیصلہ کرتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بول ٹی وی پروگرام کے ٹرانسکرپٹ واضح نہ ہونے پر پیمرا سے دوبارہ ٹرانسکرپٹ طلب کرلئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بول نیوز پر جرمانوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت بول نیوز کے وکیل کی درخواست پر جمعرات 10 فروری تک کے لئے ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر