آرٹیکل 62-63 ، نواز شریف سے فیصل واوڈا تک
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کی نااہلی ، نواز شریف کی طرح تاحیات نااہلی کے زمرے میں آتی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کو بطور سینیٹر نااہل قرار دے دیا ہے، یہ نااہلی نواز شریف کی نااہلی کی توثیق ہے، فیصلہ یہ ہے آپ نے مالی فائدہ اٹھایا یا نہیں، آپ نے بہت کچھ چھپایا اور غلط بیانی سے کام لیا اس لیے آپ صادق امین نہیں رہے۔ فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے سے کئی قانونی سوالات نے جنم لیا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان ، کورٹ آف لاء ہے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اقامہ پر ہوئی تھی ۔ آرٹیکل 62 کے مطابق ، اور آرٹیکل 62 کے تحت ہی پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ فیصل واوڈا کی نااہلی دہری شہریت چھپانے پر ہوئی ہے ۔ جب کہ نواز شریف کی نااہلی کاغذات نامزدگی میں اقامہ چھپانے اور سورس آف انکم چھپانے پر ہوئی تھی۔
نواز شریف اور فیصل واوڈا کیس میں مماثلت
فیصل واوڈا کی نااہلی کے ای سی پی کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ دکھ منا رہی ہے کہ فیصل واوڈا کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ، تو پھر انہیں نواز شریف کیس میں بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نواز شریف کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی تھی۔
اسی طرح اگر ن لیگ والے فیصل واوڈا کی نااہلی پر تالیاں بجا رہے ہیں تو پھر انہیں نواز شریف کی نااہلی پر بھی خوشیاں منانی چاہئیں تھیں۔ بنیادی طور پر یہ کیچ 22 ہوگیا ہے ۔
فیصل واوڈا کی نااہلی ، ایک طرح سے ای سی پی نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر مہرثبت کر دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ فیصل واوڈا نااہلی کیس کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے ، اور اگر سپریم کورٹ نے ای سی پی کے فیصلے کو مسترد کردیا تو جواز بن جائے گا کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی درست نہیں تھا۔ تو بیسکلی یہ وائس ورسا ہے۔
فیصل واوڈا کی ڈس کوالیفیکیشن اور قانونی سوالات
فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے سے کئی قانونی سوالات نے جنم لیا ہے۔ کیا الیکشن کمیش کورٹ آف لاء ہے ، کیا اسے اختیار سماعت تھا کہ وہ فیصل واوڈا کو نا اہل قرار دے سکے اور وہ بھی باسٹھ ون ایف کے تحت؟ اور اگر کسی فورم کو اختیار سماعت نہ ہو تو پھر کیا وہ فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے ؟
یہ نااہلی نواز شریف کی نااہلی کی توثیق ہے، فیصلہ یہ ہے آپ نے مالی فائدہ لیا یا نہیں، بس کچھ چھپایا/غلط بتایا تو صادق امین نہیں۔
سابق سیکریٹری ای سی پی کا موقف
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ای سی پی کے سابق سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ فیصل واوڈا کی نااہلی بھی سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کی طرح تاحیات نااہلی کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتے ہیں۔
اصل کیس کیا ہے؟
فیصل واوڈا نے 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی نشست پر کراچی کے حلقہ این اے 249 سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اسی سال جون میں دی نیوز کے رپورٹر فخر درانی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جو کاغذات جمع کرائے تھے اس میں جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی غیرملکی شہریت چھپائی تھی۔
فخر درانی کے مطابق 11 جون 2018 کو کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت واوڈا کے پاس امریکی پاسپورٹ تھا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں یہ ریمارکس پاس کیے تھے کہ دوہری شہریت رکھنے والے امیدواروں کو اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ غیر ملکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔
اسی فیصلے کی وجہ سے پہلے بھی مختلف سیاستدانوں کو نااہل قرار دیا گیا تھا، جن میں پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے سینیٹرز سعدیہ عباسی اور ہارون اختر قابل ذکر ہیں۔









