اے پی ایس حملے میں زخمی ہونے والے احمد نواز آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب

پچھلے سال مارچ میں احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کی گورننگ اینڈ اسٹینڈنگ کمیٹی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) میں دہشتگردوں کے حملے میں بچ جانے والے احمد نواز نے ایک بار پھر ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا، احمد نواز آکسفورڈ یونیورسٹی کی مشہور ترین ڈیبیٹنگ سوسائٹی آکسفورڈ یونین کے صدر منتخب ہو گئے۔

اس بات کا اعلان 20 سالہ طالب علم احمد نواز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ”مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی فخر محسوس ہو رہا ہے کہ میں @OxfordUnion دنیا کے سب سے بڑے اور تاریخی پلیٹ فارمز میں سے ایک کا صدر منتخب ہوا ہوں!”

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کا جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم لانے کا اعلان

اینکر تنزیلہ مظہر کا نجی تعلقات کے حوالے سے اہم انکشاف

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "یہ میری زندگی کا سب سے یادگار اور تاریخ ساز لمحہ ہے۔”

احمد نواز نے اپنے والدین اور ان تمام لوگوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سفر میں ان کا ساتھ دیا۔

اے پی ایس پشاور پر دہشتگردوں نے 2014 میں حملہ کیا تھا اس وقت احمد نواز کی عمر 14 برس تھی اور وہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی حارث نواز اور دیگر 150 طلباء اور اساتذہ عسکریت پسندوں کے حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

بازو میں گولی لگنے کے بعد احمد نواز کو علاج کے لیے برطانیہ کے سہر برمنگھم لے جایا گیا۔ وہ تب سے اپنے خاندان کے ساتھ وہاں مقیم ہیں ۔ احمد نواز نے 2020 میں اپنے اسکول کے گریڈز کی بنیاد پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔

پچھلے سال مارچ میں احمد نواز کو آکسفورڈ یونین کی گورننگ اینڈ اسٹینڈنگ کمیٹی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر