جیو نیوز کے رپورٹر اعزاز سید وزیراعظم سے نفرت میں اندھے ہوگئے

اعزاز سید نے یوم پاکستان کی پریڈ میں وزیراعظم کی شرکت کے حوالے سے غیر ذمے دارانہ اور حقائق  کے منافی ٹوئٹ کرڈالا، سینئر صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی اعزاز سید پر شدید تنقید

جیو نیوز کے رپورٹر اعزاز سید وزیراعظم سے نفرت میں اندھے ہوگئے اور یوم پاکستان کی پریڈ میں وزیراعظم کی شرکت کے حوالے سے غیر ذمے دارانہ اور حقائق  کے منافی ٹوئٹ کرڈالا۔

سینئر صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اعزاز سید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ کے لارجز بنچ پر سینئر صحافیوں نے تحفظات کا اظہار کردیا

ہماری عظمت کا نشان مینار پاکستان ، تعمیر اور تاریخی پس منظر

جیو نیوز کے رپورٹر اعزاز سید نے وزیراعظم کی پریڈ وینیومیں آمد کی وڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ  وزیراعظم عمران خان 23 مارچ کی تقریب میں سلامی کے چبوترے پر آئے مگر آرمی چیف جنرل باجوہ سے نہ ملے۔ سروسز چیفس نے سیلوٹ بھی نہ کیا بعدازاں عمران خان صدر مملکت اور چیرمین جوائنٹ چیفس سے باتیں کرتے رہے جبکہ وزیر دفاع پرویز خٹک جنرل باجوہ کیساتھ محو گفتگو رہے۔

 

سینئر صحافی افتخار احمد سمیت کئی صحافیوں نے اعزاز سید کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کی اصلاح کی ہے ۔سینئر صحافی افتخار احمد نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ آرمی چیف نے وزیراعظم کو سلامی کے ساتھ رخصت کیا ہے۔

وائس آف امریکا اردو سے وابستہ سدرہ ڈار نے لکھا کہ  میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوا ہو۔ پریڈ کے کچھ پروٹوکول ہیں جو ہر صورت پورے کئے جاتے ہیں، چاہے حالات کیسے ہی ہوں، جب وزیر اعظم کو رخصت کرتے وقت آرمی چیف بات چیت کرسکتے ہیں اور سلیوٹ کر رہے ہیں تو یہ ویڈیو غلط معلومات کے سوا کچھ نہیں، جب حالات ایسے ہوں تو دیکھنےکا زاویہ بھی بدل جاتا ہے

سدرہ ڈار نے مزید لکھا کہ یہ روش ٹھیک نہیں کہ چند سیکنڈز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر لگا کر اس پر ایسا تبصرہ کردیا جاۓ، اگر صحافی ایسے تجزیے کریں گے تو عام اور نومولود خودساختہ صحافی جو دل چاہیں بولیں اور پھیلایئں۔

تحریک انصاف کے ایک حامی نے اعزاز سید کو گالی سے نوازتے ہوئے ایک وڈیو کلپ شیئر کیا جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم نے سلامی  وصول کرنے کے بعد سروسز چیفس سے مصافحہ  کیا جبکہ  آرمی چیف  جنر قمر جاویدباجوہ نے انہیں سیلوٹ بھی کیا۔

ایک صارف نے  وزیراعظم کی پریڈ گراؤنڈ سے   روانگی کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ  کیا عام لوگوں کو گمراہ کرنے والوں میں  کوئی اخلاقی اقدار ہوتی ہیں؟ اگر آپ کو معلومات عام  کرنے  کے پیشے سےنوازا گیا ہے تو اپنے کام سے بے ایمانی کیوں کررہے ہیں ۔

بعدازاں سینئر صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید کے بعد اعزاز سید نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا۔

متعلقہ تحاریر