جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خط میڈیا کو کیسے لیک ہوا؟

جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو ارسال کردہ خط میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلیے تشکیل کردہ بینچ، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تقرری پر سوال اٹھائے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کو اعلیٰ عدالت کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط لکھ کر کئی قانونی امور پر اپنے اعتراضات سے آگاہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں کہا کہ سپریم کورٹ بار کی پٹیشن اور صدارتی ریفرنس کی ایک ساتھ سماعت نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے اس جانب حوالہ دیا کہ سپریم کورٹ بار کی ہفتے کے دن درخواست کی سماعت میں صدارتی ریفرنس سننے کیلیے مقرر کرنے کا حکم دیا گیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ریفرنس دائر ہی نہیں ہوا تھا اسے سماعت کیلیے مقرر کرنے کا حکم کیسے دیا جاسکتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی بینچ دو مختلف اختیارِ سماعت میں بیک وقت سماعت نہیں کرسکتا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے دوسرا اعتراض یہ اٹھایا کہ عدالتی بینچ میں سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے، آٹھویں اور تیرہویں نمبر کے ججز کو شامل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم آئینی معاملات میں سابق چیف جسٹس نے اس عہدے کیلیے بینچ تشکیل دینے کا صوابدیدی اختیار طے کیا ہے لیکن یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ سینئر ججز پر مشتمل بینچ سماعت کرے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں تیسرا قانونی اعتراض یہ اٹھایا کہ ایک بیوروکریٹ کو وزیراعظم ہاؤس سے بلوا کر سپریم کورٹ کا رجسٹرار تعینات کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹرار کی تقرری عدلیہ کے انتظامیہ سے الگ ہونے کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے۔

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اظہر صدیقی نے ٹویٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھیجا گیا خط میڈیا کو کیسے لیک ہوا؟

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی عیسیٰ کو آئین کا آرٹیکل 209 اور ججز کا ضابطہ اخلاق پڑھنے کی ضرورت ہے۔

ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں درج ہے کہ ایک جج کیونکہ عوامی طور پر اپنے فرائض ادا کرتا ہے اس لیے اسے تمام پذیرائی مل جاتی ہے لیکن اسے مزید پذیرائی کیلیے کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

اس ضابطہ اخلاق میں مزید لکھا ہے کہ ایک جج کسی عوامی تنازع میں ملوث نہیں ہوگا، سیاسی معاملے میں بھی شریک نہیں ہوگا چہ جائے کہ اس میں کوئی قانونی پہلو نا نکلتا ہو۔

متعلقہ تحاریر