ڈی چوک یا ہائیڈ پارک: اس کی وجہ شہرت اور اہمیت کیا ہے؟
ڈی چوک کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ یہ کہاں واقع ہے؟ یہاں کون سی اہم قومی عمارتیں واقع ہیں؟ تمام سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں اسی مقام پر احتجاج کرنا چاہتی ہیں؟۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک کی وجہ شہرت کیا ہے؟۔ ریڈ زون آنے والی تمام شاہراہیں اسی مقام پر ملتی ہیں، یہ چوک شہرِ اقتدار میں جناح ایونیو اور شاہراہ دستور کے سنگم پر واقع ہے۔
اس چوک کے قریب کئی اہم عمارتیں واقع ہیں۔ جن میں پارلیمنٹ ہاؤس یعنی ایوان بالا اور ایوان زیریں، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، ایوان صدر ، ایوان وزیراعظم ، وزیراعظم سیکریٹریٹ ، پاک سیکرٹریٹ ، پارلیمنٹ لاجز ، دفتر خارجہ ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وفاقی محتسب ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، پاکستان ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹرز ، مختلف ممالک کے سفارت خانے اور دیگر اہم عمارتیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اپوزیشن تحریک عدم اعتماد، حکومت جنوبی پنجاب صوبہ کا بل پیش کرے گی
خیبر پختونخوا بلدياتی انتخابات، دوسرا مرحلہ 31 مارچ سے شروع ہوگا
ڈی چوک وہ مقام ہے جہاں پر کئی سیاسی جماعتیں احتجاج کر چکی ہیں، جن میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے طویل دھرنے دیئے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے کنٹینرز اسی مقام پر تقریباً سوا سو دن سے زائد عرصہ تک موجود رہے، جن سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری خطاب کرتے تھے اور اسی ڈی چوک پر مظاہرین نے خیمے نصب کرکے مہینوں قیام کیا۔
جناح ایونیو سے ریڈ زون میں ڈی چوک آنے والے راستے پر گیٹ نصب کر دیئے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے اور مظاہرین کو روکنے کے لئے بند کر دیا جاتا ہے۔
اب ایک بار پھر برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت جو حکومت کے اہم عہدوں پر فائز ہے اور اپوزیشن جماعتیں ، اسی ڈی چوک پر اجتماعات منعقد کرنے کی خواہشمند ہیں۔
اسلام آباد کے سینئر صحافی کامران خان نے نیوز 360 کو بتایا کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے مرکزی دفاتر اسی ڈی چوک کے قریب واقع ہیں جس کی وجہ سے ڈی چوک خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ جس سے اسے شکایت ہو اس کے گھر یا دفتر کے باہر احتجاج کرے تاکہ اس کی شنوائی ہو ، جبکہ ڈی چوک پر تقریباً تمام اہم ترین قومی اداروں کے دفاتر واقع ہیں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے 126 روز کے دھرنے سے ڈی چوک کو سب سے زیادہ شہرت ملی۔
مزید تفصیلات نیوز 360 کے نمائندے جاوید نور کی رپورٹ میں ملاحظہ کیجئے۔









