تحریک عدم اعتماد ، حکومت اور اپوزیشن والے دونوں اپنی اپنی جیبیں ٹٹولنے لگے
نیوز 360 کے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے نہ تو حکومت کو اس بات کا یقین کے انکے پاس 172 ارکان ہیں اور نہ حزب اختلاف کو اس بات کی کنفرمیشن ہے کہ حکومتی اتحادی ان کے ساتھ ہیں۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس آج ہونے جارہا ہے ، اجلاس کے ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد سرفہرست ہے تاہم اجازت ملنے پر تحریک پیش کی جائے گی ، پیش کی جانے والی تحریک پر 152 اراکین قومی اسمبلی کے دستخط لازمی ہونے چاہئیں۔
تفصیلات کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتیں کی جانب سے آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی ، جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر قانون کے مطابق سات دن کے اندر ووٹنگ کرانے کے پابند ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا
سینیٹر عبدالغفور حیدری نے وزیر داخلہ کو پاگل قرار دے دیا
نیوز 360 کے ساتھ مصدقہ ذرائع نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں نہیں پتا کہ ان کے پاس 172 لوگ ہیں بھی یا نہیں ۔ کیونکہ اتحادی ابھی تک پریشان ہیں کہ کیا فیصلہ کریں۔
نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے مقتدر حلقوں اور اتحادیوں نے بتایا ہے کہ وہ لوگ ابھی تک فون کالز کا انتظار کررہے ہیں، جبکہ تک کوئی کال نہیں آجاتی ہم فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ مطلب یہ کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کسی کو پتا نہیں ہے۔
گوکہ آج شاہ زین بگٹی نے اپنی راہیں حکومت اتحاد سے جدا کرلی ہیں مگر جو بڑے اتحادی ہیں ان کی جانب سے اعلان ہونا ابھی باقی ہے کہ وہ کسی جانب ہیں ، جن میں مسلم لیگ (ق) ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم پاکستان قابل ذکر ہیں ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہ تو اپوزیشن کو اعتماد ہے کہ ان کے پاس 172 نشستیں انکے پاس ہیں بھی یا نہیں اور نہ حکومت کو معلوم ہے کہ ان کے اتحادی اور ان کی اپنی پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی ان کے ساتھ ہیں یا نہیں۔
ایم این اے شاہ زین بگٹی نے وزیراعظم کے معاون کی حیثیت سے استعفیٰ دینے اور پی ٹی آئی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے علاوہ ، وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم، پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایل-ق)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سمیت اہم حکومتی اتحادیوں نے ابھی تک کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا ہے۔
گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے جلسے میں خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اعلان کررکھا تھا کہ وہ قوم کو سرپرائز دیں گے، تاہم ایک گھنٹہ اور 50 منٹ کی تقریر میں کوئی سرپرائز سامنے نہیں آیا سوائے اس کے انہوں نے ایک کاغذ جیب سے نکالا اسے ہوا میں لہرا اور دوبارہ جیب میں رکھ لیا۔









