وزیراعظم کا قوم سے خطاب موخر ہوا ہے منسوخ نہیں، ہائی کورٹ نے بھی ہدایت کردی

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکریٹ ڈاکومنٹ ایکٹ کیس میں فیصلہ دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم ایک اہم عہدے پر فائز ہیں اس لیے وہ ملکی مفاد میں کوئی ڈاکومنٹ قوم سے شیئر نہیں کریں گے۔

دھمکی آمیز مراسلے کے معاملے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی درخواست پر وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنا خطاب موخر کردیا ہے ، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم ملک کے ایک اہم عہدے پر فائز ہیں اس لیے ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ خط کے مندرجات کو عوام کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔

گذشتہ روز وزیر داخلہ شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد اور دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے سے قوم سے خطاب کریں گے اور انہیں اعتماد میں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم کا اسلام آباد جلسہ، میڈیا غیرجانبدارانہ کوریج میں ناکام

عمران خان ، بھٹو کے نقش قدم پر اور بھٹو کا نواسہ تاریخ کی غلط سمت پر

شام کے وقت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ملکی مفاد کی خاطر انہیں قوم سے خطاب نا کرنے کی درخواست کی۔

وزیراعظم نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اپنے خطاب کو موخر کردیا ہے ۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کر موخر کیا ہے منسوخ نہیں کیا ہے۔

گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کال کی اور دھمکی آمیر خط کے مندرجات وفاقی کابینہ سے شیئر کیے۔

بعد ازاں انہوں نے عمران خان نے پاکستان کے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی اور خط کے مندرجات ان سے بھی شیئر کیے ، تاہم انہوں نے سیکریٹ ڈاکومنٹ ایکٹ کے تحت خط کی کاپی کسی سے شیئر نہیں کی۔

صحافیوں سے مندرجات شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مراسلے میں سفارتی آداب کے خلاف زبان استعمال کی گئی ہے۔ واضح دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز بیان جاری کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں اس دھمکی آمیز خط کے مندرجات پڑھ کر سنائیں گے۔ تاہم وزیراعظم نے کہا ہے وہ اس دھمکی آمیز مراسلے کے مندرجات سے قوم کو بھی ضرور آگاہ کریں گے۔

گذشتہ روز ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک شہری کی درخواست پر فوری سماعت کرتےہوئے فیصلہ دیا کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ایک کلیدی سیٹ پر بیٹھے ہیں اور وہ پاکستان کے مفاد میں ایسی  کوئی بھی معلومات ظاہر نہیں کرے گا جو کسی بھی صورت میں قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو ۔ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔

Army Chief DG ISI Prime Minister

Army Chief DG ISI Prime Minister

یاد رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں عوام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی طاقتیں ملوث ہیں ، انہوں نے اس موقع پر وہ دھمکی آمیز خط بھی قوم کو دکھایا جو انہوں نے گذشتہ روز وفاقی کابینہ اور سینئر صحافیوں سے شیئر کیا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 7 مارچ کو یہ خط موصول ہوا تھا جبکہ حزب اختلاف کی جانب سے میرے خلاف تحریک عدم اعتماد 8 مارچ پیش کردی گئی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔

دوسری جانب محکمہ خارجہ نے تحریک عدم اعتماد میں امریکا کے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کردی ہے، ایک بیان میں محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے حکومت پاکستان کو کسی بھی قسم کا کوئی خط یا مراسلہ نہیں لکھا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے ہم پاکستان کے آئینی کی تکریم کرتے ہیں، پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی سپورٹ کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد اور دھمکی آمیز خط سے امریکا کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر