عمران خان وزیراعظم رہیں گے یا نہیں،تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کا وقت آن پہنچا
اگر عمران خان کے خلاف تحریک کامیاب ہوگئی تو وہ عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونے والے پہلے وزیراعظم ہوں گے
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری آج ہوگی، جس میں فیصلہ ہوجائے گا کہ عمران خان وزیراعظم رہیں گے یا نہیں۔حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے اراکین قومی اسمبلی کی حمایت کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔انسانی کی جانب سے سے پارلیمنٹ ہاؤس سمیت ریڈزون میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مرحلہ آن پہنچا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح ساڑھے 11 بجے اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہوگا ،قومی اسمبلی کے جاری کیے گئے ایجنڈے میں اپوزیشن کی تحریک پر رائے شماری قاری شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈی آئی خان میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن، تین دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر
کل سرپرائز دوں گا، الیکشن کے سوا کوئی چارہ نہیں، وزیراعظم
قومی اسمبلی میں آج اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہوگی۔جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان بطور وزیر اعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں لہذا وہ وزیر اعظم کے عہدے پر مزید برقرار نہیں رہ سکتے۔
اگر عمران خان کے خلاف تحریک کامیاب ہوگئی تو وہ عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونے والے پہلے وزیراعظم ہوں گے اور اس کے ساتھ ہی ان کی کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے تحریک عدم اعتماد پر ہونے والی رائے شماری کے حوالے سے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ وہ وہ ایوان میں نہیں جائیں گے گے تاہم بعد میں حکمت عملی تبدیل کرلی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے اپوزیشن کو172 ووٹوں کی ضرورت ہے جو کہ موجودہ ایوان کی کل تعداد کی سادہ اکثریت ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس تعداد سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نے جمع کرائی ہے،اس لئے رائے شماری کے دن وزیراعظم کیخلاف 172 ارکان کو پیش کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
اگر حزب اختلاف 172 ارکان کی حمایت ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی تو وزیر اعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی۔
تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے لئےقومی اسمبلی میں موجود ارکان کو تقسیم کر دیا جائے گا اور اس کے لیے دو راستے مقرر کردیے جائیں گے ایک راستے سے تحریک عدم اعتماد کی حمایت اور دوسرے سے مخالفت کرنے والے ارکان گزرتے ہوئے اپنے ناموں کا اندراج کرائیں گے یا جو ارکان چاہتے ہوں کہ وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا جائے وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایک طرف ہو جائیں اور ان کی تعداد کو گِن لیا جاتا ہے۔ اور جو ارکان اسمبلی وزیراعظم کو عہدے پر برقرار یار رکھنے کی حمایت کریں گے وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں گے۔ اس کا مقصد یہ ہےکہ اگر حکومت کا کوئی رکن اپوزیشن کی جانب جائے تو اس کی نشاندہی بھی ہوسکے۔ایسے رکن اسمبلی کے خلاف فلور کراسنگ کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب سے آج قومی اسمبلی میں رائے شماری کے حوالے سے قبل مشاورتی اجلاس بلایا گیا ہے جس کی صدارت اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کررہے ہیں۔ آصف زرادری، بلاول بھٹو، مولانا اسعد محمود ،سردار اخترمینگل،خالد مگسی،خالد مقبول، شاہ زین بگٹی اور دیگر رہنما اجلاس میں شریک ہیں۔ اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کے تمام پارلیمانی ممبران شرکت کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے موقع مقام پر مقامی انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔پارلیمنٹ جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریڈ زون میں داخلے کے لیے صرف مارگلہ روڈ کا راستہ مقرر کیا گیا ہے۔ریڈ زون اور گردونواح میں بڑی تعداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔









