ملیحہ ہاشمی نے خود پر حملہ آور شخص کی شناخت کرلی
پارلیمنٹ کی پریس گیلری میں موجود صحافیوں میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد تندوتیز جملوں کا تبادلہ، مجھ پر حملہ کیا گیا، ملیحہ کا دعویٰ۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کو اسپیکر اسد قیصر نے مسترد کر دیا، اسد قیصر کا یہ پیغام ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پڑھ کر سنایا۔
اس فیصلے کے بعد ایوان میں خوب ہنگامہ آرائی ہوئی حتیٰ کے پریس گیلری میں موجود صحافی بھی آپس میں الجھ پڑے۔
مجھ پر کل نیم پاگل حالت میں حملہ آور ہونے والے رپورٹر کی شناخت ہو گئی۔
نوید اکبر نامی یہ رپورٹر AAJ نیوز میں عاصمہ شیرازی کے کولیگ ہیں۔
یہ کل میرا "پاکستان زندہ باد” کا نعرہ سن کر
مجھے مارنے کو لپکے تھے۔ان کے صحافتی آداب یہ ہیں کہ یہ وزیراعظم عمران خان کو گالیاں بکتے ہیں۔👇 https://t.co/TQUoTYBjLq pic.twitter.com/gi4ZRkfvB4
— Maleeha Hashmey (@MaleehaHashmey) April 4, 2022
وزیراعظم عمران خان کی حامی اینکرپرسن ملیحہ ہاشمی سے ایک صحافی نے نہایت غصیلے لہجے میں بات کی، دونوں کے درمیان دیگر صحافی بیچ بچاؤ کرواتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے
حسن نثار کی رپورٹ کارڈ میں خاتون تجزیہ کار ریما عمر سے بدتمیزی
ثنا جاوید کوبدتمیزی مہنگی پڑگئی، رنگ رسیا نے معاہدہ منسوخ کردیا
بعد ازاں ملیحہ ہاشمی نے ٹوئٹر پر اپنے ساتھ ہونے والی بدتمیزی کی ویڈیو بھی شیئر کی اور بدتمیزی کرنے والے کو بھی شناخت کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مجھ پر حملہ آور ہونے والے رپورٹر کا نام نوید اکبر ہے اور یہ آج نیوز میں عاصمہ شیرازی کے ساتھ ہوتے ہیں۔
ملیحہ کا موقف ہے کہ مذکورہ رپورٹر ان سے دست درازی کرنا چاہتے تھے۔
یہاں خاتون اینکرپرسن نے نوید اکبر کے پرانے ٹوئٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے جس میں نوید نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف نہایت غیر مہذب زبان استعمال کی تھی۔









