ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس کی وجہ سے نگراں حکومت کا قیام تاخیر کا شکار ہے، چیف جسٹس

عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ہم تمام تحاریک کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں، پارلیمان کیلئے بے حد احترام ہے،اس کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے رولنگ کیس کی وجہ سے نگراں حکومت کا قیام تاخیر کا شکار ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ  نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس کیس کا جلد فیصلہ سنانا چاہتے ہیں لیکن پہلے تمام فریقین کا مؤقف سنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا قیام اس کیس کی وجہ سے رکا ہوا ہے، کوشش ہے کہ کل فیصلہ سنا دیں۔ عدالت کی ساری توجہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر پر مرکوز ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امید ہے عدالت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو خلاف قانون قرار دیگی، ن لیگ

تحریک انصاف نے جسٹس (ر)گلزار احمد کا نام نگراں وزیراعظم کیلیے تجویز کردیا

 چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ نگران وفاقی حکومت کا قیام اس کیس کی وجہ سے رکا ہوا ہے، کوشش کریں گے کہ کل کیس فیصلہ سنا دیں، عدالت کی توجہ صرف  ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے نقطے پر مرکوز ہے، عدالت خارجہ پالیسی اور ریاستی امور میں مداخلت نہیں کرتی، ہم پالیسی معاملات کی تحقیقات میں نہیں پڑنا چاہتے، فریقین اسی نقطے تک محدود رہیں۔عدالت نے صرف جائزہ لینا ہے کہ جو اقدامات کیے گئے ان کی آئینی حیثیت کیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم اس کیس کا فیصلہ جلدی سنانا چاہتے ہیں لیکن پہلے تمام فریقین کا مؤقف سنیں گے۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ تحریک پیش کرنے کی منظوری کیلئے 20 فیصد ارکان ضروری ہیں، 20 فیصد نے اس کی منظوری دی تاہم اگر ایوان میں موجود اکثریت مخالفت کرے تو  پھرکیا ہوگا ؟ وکیل نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہو جائے تو اس پر ووٹنگ ضروری ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کو قواعد کے ذریعے غیر مؤثر نہیں بنایا جاسکتا، تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت قواعد میں ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی اور مسلم لیگ ‏ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل پیش کئے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کیخلاف ہے، وزیراعظم کو ہٹانے کا طریقہ کار آئین میں میں درج ہے، وزیراعظم استعفیٰ دے سکتے ہیں، اگر اکثریت کھودیں تو تحریک عدم اعتماد پر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے، اگر قرارداد پارلیمنٹ میں آجائے تو وزیراعظم اسمبلیاں تحلیل نہیں کرسکتے، عدالت نے دیکھنا ہے پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنیٰ حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی اور رولنگ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 کی تشریح کر کے ارکان پر اس کا  اطلاق کر دیا،جو درست نہیں۔آرٹیکل 95 (2) کے تحت اسپیکر کی رولنگ کاجائزہ لیا جا سکتا ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ایک بیان میں 3 آپشنز بتائے، جس کی اسٹیبلشمنٹ نے تردید کی،انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے منٹس اور خط منگوائے جائیں اور عدالت اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دے کر اسمبلی کو بحال کرے۔

رضا ربانی نے دلائل میں کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک عدالتی استثنیٰ حاصل ہے۔قومی اسمبلی میں میں جو ہوا اسے سویلین مارشل لا ہی قرار دیا جاسکتا ہے، عجیب بات ہے کہ نظام نے ازخود ہی اپنا متبادل تیار کرلیا جو غیرآئینی ہے، 28 مارچ کو عدم اعتماد کی تحریک منظور ہوئی، مگر کارروائی ملتوی کی گئی،اگلے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ پڑھی اور ارکان کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے دیا۔

رضا ربانی نے دلائل میں کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے یہ بھی اعلان نہیں کیا کہ تفصیلی رولنگ جاری کریں گے، ڈپٹی اسپیکر نے کس بنیاد پر رولنگ دی کچھ نہیں بتایا، انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے سامنے عدالتی حکم تھا نہ ہی سازش کی کوئی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی، ڈپٹی اسپیکر نے تحریری رولنگ دے کر اپنی زبانی رولنگ کو غیر مؤثر کر دیا۔

مسلم لیگ ‏ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ایوان ہیں اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے کہ وزیراعظم برقرار رہیں گے یا نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ اصل سوال صرف ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا ہے۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسپیکرکی رولنگ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دریافت کیا کہ کیا عدالت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لے سکتی ہے ؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت غیر آئینی رولنگ کا جائزہ لے سکتی ہے، ایک شخص سارے ایوان اور اکثریت کو سائیڈ لائن نہیں کرسکتا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت اس وقت صرف آئینی معاملات کو دیکھنا چاہتی ہے۔

مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ آرٹیکل 95 کی ذیلی شق ایک کے تحت عدم اعتماد  کی قرار داد جمع کرائی گئی۔ جس پر 152 ارکان کے دستخط ہیں،  161 ارکان نے یہ تحریک پیش کرنے کی اجازت دی، اسی بنا پراسپیکر نے بھی عدم اعتماد کی اجازت دی اور پھرکارروائی 31 مارچ تک ملتوی کر دی۔انہوں نے دلائل میں کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے آئین کی صریحا  خلاف ورزی کی۔قواعد وضوابط کی شق 37 کے تحت 31 مارچ کو عدم اعتماد پر بحث ہونی تھی مگر ایسا نہیں کیا گیا جبکہ 3 اپریل کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی تھی مگر اس موقع پر آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔جسٹس منیب اختر نے دریافت کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پر کب کیا ہونا ہے یہ رولز میں ہے، آئین میں نہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ قواعد و ضوابط بھی آئین کے تحت ہی بنائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم تمام تحاریک کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں، پارلیمان کیلئے بے حد احترام ہے،اس کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتے،  ماضی میں عدالت غیر آئینی اقدامات پر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت کرتی رہی ہے۔عدالت نےازخود نوٹس سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ تحاریر