ڈپٹی اسپیکر رولنگ کیس ، تحریک انصاف کو سپریم کورٹ میں زبردست شکست

ڈپٹی اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے دیا۔ صدر کے نگراں حکومت بنانے کے احکامات بھی کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم کی صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے 3 اپریل کی رولنگ آئین کے منافی تھی ۔ کسی ممبر کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔ فیصلہ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کسی کو ووٹنگ سے نہیں روکے گی۔ فیصلے کے مطابق تمام وفاقی وزراء کو انکے عہدوں پر بحال کیا جاتا ہے ۔

فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد کو بحال کیا جاتا ہے ، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی ہوگی ۔ اسپیکر کو ہفتے کے روز 10 بجے اجلاس بلانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو حکومت اپنے امور انجام دے گی ۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے گی اگر تحریک کامیاب ہوتی ہے تو نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بادالنظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا،ہم نے قومی مفاد کو بھی دیکھنا ہے، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی کہتی ہے کہ استحکام ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

اسد مجید کی بیلجیئم روانگی اچانک نہیں، مریم نواز غلط ثابت

اکتوبر سے قبل انتخابات کاانعقاد ممکن نہیں ، الیکشن کمیشن کا صدر کو جواب

ڈپٹی اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کی۔ فیصلے کے قبل لارجز بینچ میں شامل تمام ججز صاحبان نے مشاورت کی۔

پیپلزپارٹی کے نیئر بخاری، تاج حیدر، فیصل کریم کنڈی اور شیری رحمان، پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری ، سییٹر فیصل جاوید اور عامر کیانی، پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون ،  بھی فیصلے کے وقت عدالت میں موجود ہیں۔

چیف جسٹس کے طلب کرنے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب لیگل ٹیم کے ہمراہ کمرہ عدالت پہنچ گئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے چیف الیکشن کمشنر سے استفسار کیا کہ الیکشن کرانے کے حوالےسے کیا تفصیلات ہیں؟

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہم ہر وقت الیکشن کرانے کے لیے تیار ہیں ۔ آئین کے مطابق 90 روز میں الیکشن کرانے کے لیے تیار ہیں۔ حلقہ بندیاں نہیں ہوسکی ہیں۔ حلقہ بندیوں کے حوالے سے وزیراعظم اور دیگر حکام کو 16 خطوط لکھے ۔ جب تک حلقہ بندیاں نہیں ہوں گی الیکشن کا حصول ممکن نہیں ہو سکے گا۔

فیصلے موقع پر سپریم کورٹ اندر اور باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ رینجرز کی بھاری نفری کو سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر تعینات کیا گیا تھا ، جبکہ عمارت کے باہر پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔

ڈپٹی اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کیس کی آخری روز کی سماعت کی تفصیلات

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بادالنظر میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا،ہم نے قومی مفاد کو بھی دیکھنا ہے، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی کہتی ہے کہ استحکام ہونا چاہیے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں ؟۔ صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے دریافت کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے تو اسے تحفظ حاصل ہوگا اور کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ کی کارروائی سے کوئی فریق متاثر ہو تو داد رسی کیسے ہوگی اور کیا ایسے معاملات پر عدالت خاموش بیٹھی رہے ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، پارلیمان ناکام ہو جائے تو یہ معاملہ عوام کے پاس جاتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو پھر کیا ہوگا ؟۔

علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلافات ہوں تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے ؟۔جیسے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے۔جس پر علی ظفر نے کہا کہ عدالت حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا جائزہ لے سکتی ہے تاہم عدالت وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

صدر مملکت کے وکیل نے محمد خان جونیجو کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جونیجو کی حکومت کے خاتمہ کو غیر آینی قرار دیا مگراسمبلی کے خاتمہ کے بعد اقدامات کو نہیں چھیڑا۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ جس پر صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن کا اعلان کر دیا گیا۔

چیف جسٹس نے وکیل علی ظفر سے پوچھا کہ سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہا ہے تو آئینی بحران کہاں ہے؟۔

علی ظفر نے کہا کہ ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں، الیکشن کے اعلان سے ثابت ہوتا ہےکہ حکومتی اقدام بدنیتی نہیں تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل پوچھا کہ کیا اسمبلی کے ارکان کی اکثریت تحلیل نہ چاہے تو کیا وزیراعظم صدر کو سفارش کر سکتے ہیں ؟۔

وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی عدالت کے اختیارات سے باہر ہے، پارلیمان کو اپنا گند خود صاف کرنے کے لئے عدالت کہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انتخابات کی کال دے کر 90 دن کے لیے ملک کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے، اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو کیا ممکن ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ لیو منظور ہونے کے بعد رولنگ نہیں آ سکتی، وہ کہتے ہیں کہ 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے رولنگ آ سکتی تھی، آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے۔؟

وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کی صدارت پر اعتراض نہیں کیا، قاسم سوری نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا، اس پر وہ عدالت کو جوابدہ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی، عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کرنے کا استحقاق حاصل ہے۔

امتیاز صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ اسپیکر کو اگر معلوم ہو کہ بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے تو وہ قانون سے ہٹ کر بھی ملک کو بچائے گا، اسپیکر نے اپنے حلف کے مطابق بہتر فیصلہ کیا اور ان کا یہ فیصلہ پارلیمنٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔آئین کی شق ا 69 کو شق 127 سے ملا کر پڑھیں تو پارلیمانی کارروائی کو مکمل تحفظ حاصل ہے، آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی کارروائی میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالت کے سامنے جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا سپریم کورٹ ان پر عمل کرنے کی پابند نہیں۔ جس پر امتیاز صدیقی نے کہا کہ معذرت کے ساتھ مائی لارڈ، 7 رکنی بینچ کے فیصلے کے آپ پابند ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ان میں آبزرویشنز ہیں، عدالت فیصلوں میں دی گئی آبزرویشنز کی پابند نہیں۔

وزیراعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے کہا سپریم کورٹ آئین کی شق 69 کے تحت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی، ڈپٹی اسپیکر نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی پر انحصار کیا، نیشنل سکیورٹی کمیٹی پر کوئی اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مواد موجود تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی؟۔

کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟۔

ڈپٹی اسپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے؟۔

جس پر وزیراعظم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے معاملے پر مجھے نہیں معلوم۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو آپ کو نہیں معلوم اس پر بات نا کریں، وزیراعظم نے آرٹیکل 58 کی حدود کو توڑا اس کے کیا نتائج ہوں گے؟۔

ڈپٹی اسپیکر کو 28 مارچ کو ووٹنگ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا، ووٹنگ کے دن رولنگ آئی۔

اس سے قبل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ گزشتہ شب نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا، سابق گورنر آج باغ جناح لاہور میں حلف لیں گے، حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی بلالی ہے، آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی بات ہے۔ جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ عدالت پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دے گی، یہ معاملہ لاہور ہای کورٹ میں لے جائیں۔

جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سربمہر کر دیئے گئے ، انہوں نے دریافت کیا کہ کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جاسکتا ہے ؟ ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں ؟۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔ عدالت نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا۔

جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی کی کارروائی بامشکل سے 2 یا تین منٹ چلی۔ چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا اپوزیشن کو پوائنٹ آف آرڈر پر موقع نہیں ملنا چاہیے تھا۔

جسٹس جمال خان نے بھی پوچھا کہ کیا رولنگ ڈپٹی اسپیکر نے دی جبکہ اس رولنگ پر دستخط اسپیکر کے ہے۔عدالت نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس میں ڈپٹی اسپیکر کی موجودگی ظاہر نہیں ہوتی،بتائیں کہ کیا ڈپٹی اسپیکر اجلاس میں موجود تھے ؟۔

جس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جو دستاویز پیش کی گئیں شاید وہ اصل نہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتاہے کہ ڈپٹی اسپیکر کو لکھا ہوا مواد ملا اور انہوں نے پڑھ دیا۔نعیم بخاری نے قومی اسمبلی کےوقفہ سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام اپوزیشن اراکین نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کہا کہ انہوں نے سوال نہیں پوچھنے،ڈپٹی اسپیکر ووٹنگ کرائیں، اس شور شرابے میں ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفننگ میں بتایا گیا کہ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے دریافت کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کو کس نے بریفننگ دی تھی۔ جبکہ بریفننگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی میں 11 لوگ شریک ہوئے تھے،ریکارڈ یہی بتاتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا، یہ حق آئین اور اسمبلی قواعد سے مشروط ہے، ان کا موقف تھا کہ اسپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کیلئے عدالت نہیں آ سکتا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رولز سے مشروط ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ہاں تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی قواعد کے مطابق ہی ہوتی ہے،وہ نہیں سمجھتے کہ قومی اسمبلی کی کارروائی کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے عدالت فیصلہ کرے گی، اگر اسپیکر کم ووٹ لینے والے شخص کے وزیراعظم بننے کا اعلان کریں تو عدالت اس میں مداخلت کر سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہے کیونکہ وہ سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں، اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے وزیراعظم کا وجوہات بتانا ضروری نہیں، اگر صدر وزیراعظم کی سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہو جائیں گی۔

ان کا موقف تھا کہ حکومت کی تشکیل ایوان میں ہوتی ہے، آئین ارکان کی نہیں ایوان کی 5 سالہ معیاد کی بات کرتا ہے، برطانیہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا آپشن ختم کر دیا گیا ہے، ہمارے آئین میں وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن موجود ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بھی عدالت میں موجود ہیں،ان سے اس حوالے سے تجاویز لے لیں۔

ان کا کہنا تھاکہ موجودہ مینڈیٹ 2018 کی اسمبلی کا ہے، آج اگر کوئی حکومت بنائے گا تو وہ کتنی مستحکم ہوگی۔

عدالت عالیہ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو روسٹرم پر بلالیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سری لنکا میں مالی بحران کے سبب بجلی اور دیگر سہولیات کیلئے بھی پیسہ نہیں بچا۔انہوں نے کہا کہ آج روپے کی قدر اتنی کم ہوگئی ہے کہ ڈالر 190 روپے تک جاپہنچا ہے، ہمیں ملک کے استحکام کے لئے مضبوط حکومت کی ضرورت ہے، اپوزیشن لیڈر کیلئے یہ بہت مشکل ٹاسک ہوگا۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے عدالت کے روسٹرم پر آکرکہا کہ وہ عدلیہ کی بہت عزت کرتے ہیں، وہ بھی عام آدمی ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ عدالت کے سامنے پیش ہونا میرے لئے باعث اعزاز ہے، اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی اور اس طرح تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھاکہ ہماری تاریخ میں کئی مرتبہ آئین پامال ہوا، جو غلط فیصلے کئے گئے ان کی توثیق اور سزا نہ دیئے جانے کی وجہ سے ہمارے ملک کا یہ حال ہوا۔انہوں نے عدالت عالیہ سے کہا کہ اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کیا جائے اور پارلیمنٹ کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کرنے دی جائے۔

متعلقہ تحاریر