آرمی چیف ایکسٹنشن قبول نہیں کریں گے، 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے، ترجمان پاک فوج

عمران خان نے اب تک جو کچھ کہا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کی نفی کردی۔ ان کا کہنا ہے اگر امریکہ فوج سے بھی اڈے مانگتا تو ہم بھی ایبسیولوٹیلی ناٹ ہیں کہتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا  کوئی لفظ نہیں، عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں، ہمیں اس معاملے سے باہر رکھا جائے۔ ٹی ٹی پی سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے۔ حکومت نے بہترین تعلق رکھنا فوج کی ذمہ داری ہے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے خط کے معاملے پر اپنا موقف قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کیا، ہماری خفیہ ایجنسیاں تمام خطرات کے خلاف چوکنا ہیں اور خفیہ ایجنسیوں سمیت تمام ادارے بھرپور طریقے سے کام کررہے ہیں، خود دیکھ لیں کہ قومی سلامتی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے، کسی کے پاس مداخلت کے ثبوت ہیں تو سامنے لے آئے۔ ہم پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، غیرملکی مراسلہ پر جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ


قومی سلامتی کمیٹی عمران بچاؤ کمیٹی نہیں، ادارے وضاحت دیں، مریم نواز

پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب کبھی مارشل لا نہیں آئے گا، پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے اور اس جمہوریت کو مضبوط کرنا سب کا فرض ہے، پارلیمنٹ ،عدلیہ اور مسلح افواج  جمہوریت کی طاقت ہیں، پاکستان کا مستقبل انشااللہ صرف جمہوریت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو سیاست  میں مت گھسیٹیں ،اسٹیبلشمنٹ نے سابق حکومت کو کوئی آپشن نہیں دیا تھا،افواہوں کی بنیاد پر بے بنیاد کردار کشی مہم کسی صورت قبول نہیں۔

اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیراعظم کے سامنے کوئی آپشن نہیں رکھا،میجر جنرل بابر افتخار

میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا تھا، ڈیڈ لاک کے دوران وزیراعظم آفس سے آرمی چیف سے رابطہ کیا گیا کہ بیچ بچاؤ کی بات کریں، ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں بات کرنے پر تیار نہیں تھی جس پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وہاں گئے، مختلف رفقاء سے بیٹھ کر تین چیزیں ڈسکس ہوئیں کہ کیا کیا ہوسکتا ہے، ان میں وزیراعظم کا استعفیٰ، تحریک عدم اعتماد واپس لینا اور وزیراعظم کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آپشن تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تیسری آپشن پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ قابل قبول ہے، ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کریں جس پر آرمی چیف پی ڈی ایم کے پاس گزارشات لے کر گئے اور ان کے سامنے یہ گزارش رکھی جس پر سیر حاصل بحث ہوئی لیکن اپوزیشن نے اس پر کہا کہ ہم ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔

تمام سیاسی قیادت نے ہر دور میں ایٹمی پروگرام کے لیے کردار ادا کیا،ڈی جی آئی ایس پی آر

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ تمام سیاسی قیادت نے ہر دور میں ایٹمی پروگرام کے لیے کردار ادا کیا، ہمارے ایٹمی پروگرام کو کوئی خطرہ نہیں، ایٹمی پروگرام کو سیاسی مباحثوں کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ ایٹمی اثاثے کسی سیاسی قیادت سے منسلک نہیں، ایٹمی اثاثوں کی بات کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔

امریکا نے کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے،ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر موقف اپنایا کہ امریکا نے کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے، اگر فوجی اڈوں کا مطالبہ کیا جاتا تو فوج کا جواب بھی ایبسولوٹلی ناٹ ہوتا۔

آرمی چیف مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے،ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آرمی چیف نہ تو مدت ملازمت میں توسیع  طب کررہے ہیں نہ قبول کریں گے،آرمی چیف مدت ملازمت پوری کرکے 29نومبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔

9 اپریل کی رات سے متعلق بی بی سی نے واحیات اسٹوری شائع کی،ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر نےکہا کہ 9 اپریل کی رات وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، اس حوالے سے سب باتیں جھوٹ ہیں ، بی بی سی نے بہت ہی واحیات اسٹوری شائع کی، اس سے بڑا جھوٹ کسی انٹرنیشنل لیڈنگ ایجنسی کی طرف سے نہیں ہوسکتا، یہ ایک مکمل من گھڑت اسٹوری تھی۔ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں صدر کے چیمبر میں دو اعلیٰ افسران کی ملاقات سے متعلق مجھے کوئی علم نہیں۔

آرمی چیف جس طرف دیکھتا ہے7 لاکھ فوج اسی طرف دیکھتی ہے، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج میں تقسیم سے متعلق سوال پر کہا کہ فوج یونٹی آف کمانڈ کے تحت چلتی، آرمی چیف جس طرف دیکھتا ہے پوری 7 لاکھ فوج اسی طرف دیکھتی ہے۔

متعلقہ تحاریر