وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب ، کوئی نیا قرض حاصل کرنے میں ناکام

سعودی حکومت نے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کردی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب نے ادائیگیوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو بطور قرض 3 بلین ڈالر فراہم کیے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب کا اعلامیہ جاری، کوئی بھی نیا قرض حاصل کرنے میں ناکام ، سعودی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں دیئے گئے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کردی۔

اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ مزید اقتصادی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان نے سعودی عرب کے اقتصادی تعاون کو سراہا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعودیہ کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے تحت سعودی حکومت نے پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے مرکزی بینک میں رکھے 3 ارب ڈالر کے ذخائر کی مدت میں توسیع کا اعادہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اے این پی کے رہنما اور ایم پی اے وقار خان انتقال کر گئے

حمزہ شہباز شریف نے 21ویں وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

گزشتہ سال اکتوبر میں سعودی عرب نے پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو بطور قرض 3 بلین ڈالر فراہم کیے تھے۔ جبکہ سعودی عرب نے تیل کی درآمد کے لیے ایک سال کی موخر ادائیگی کی سہولت دیتے ہوئے 1.2 بلین ڈالر کا تیل فراہم کیا تھا۔

وزیر اعظم شہباز کے دورہ سعودی عرب سے قبل، وزارت خزانہ کے حکام نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب سے 7.4 بلین ڈالر کا امدادی پیکج حاصل کر سکتا ہے جس میں کیش ڈپازٹس اور موخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی شامل ہو گی ۔

ہفتے کے روز شاہی محل پہنچنے پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔

دونوں اطراف سے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کا جائزہ لیا گیا، اور تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے مشترکہ اعلامیےکے مطابق پاک سعودیہ سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے تحت دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

بیان  میں کہاگیا ہے کہ تجارتی تبادلے کو متنوع بنانے اور نجی شعبے کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کرنے اور انہیں ٹھوس شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے آپسی رابطوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں ممالک نے سعودی حکومت کے ویژن 2030 کے تحت اقتصادی تعاون کے پروگراموں کے ذریعے دستیاب مواقع سے فائدے اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان نے سعودی عرب کے خام تیل کی مصنوعات اور تیل سے مشتق اشیاء کی برآمدات کی مالی معاونت کے معاہدے میں توسیع کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

سیاسی سیاق و سباق

سیاسی سطح پر، دونوں ممالک نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی اور تشویشناک امور پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی اپنی سطح پر اس کو مزید مربوط طریقے سے حل کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے ابلاغ عامہ کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ، پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ماحولیاتی وژن کو سراہا گیا۔

سعودی حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حل ، پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تر تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں ممالک نے تنازعات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

متعلقہ تحاریر