سعودی عرب کے بعد وزیراعظم کی یو اے ای سے اقتصادی تعاون بڑھانے کی درخواست
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) میں رکھے ہوئے 2 بلین ڈالر کے اپنے ذخائر واپس لے چکا ہے۔
سعودی عرب سے کوئی نیا قرض یا نئی مراعات حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر گذشتہ روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اعلیٰ سطح معاشی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم سے ملاقات کی۔
وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب
وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے اعلامیہ کے مطابق ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کام آنے والے درینہ دوست نے کوئی بھی نیا قرض دینے میں دلچسپی حاصل ظاہر نہیں کی سوائے اس کے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں دیئے گئے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت میں توسیع کردی۔
یہ بھی پڑھیے
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب ، کوئی نیا قرض حاصل کرنے میں ناکام
لوگوں نے چھٹی پوری کی ، یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
اعلامیے کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ مزید اقتصادی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاہم وہ معاشی تعاون کیا ہو گا ابھی اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز کے دورہ سعودی عرب سے قبل، وزارت خزانہ کے حکام نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب سے 7.4 بلین ڈالر کا امدادی پیکج حاصل کر سکتا ہے جس میں کیش ڈپازٹس اور موخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی شامل ہو گی۔
وزیراعظم سے یو اے ای کے اقتصادی وفد کی ملاقات
گذشتہ وزیراعظم شہباز شریف سے یو اے ای کے اعلیٰ سطح اقتصادی وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کی اس موقع پر پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، پٹرولیم اور دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران اعلیٰ سطح کا دورہ پاکستان ، اس بات کا مظہر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہشمند ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس اہم موقع پر اماراتی بھائیوں کی جانب سے اقتصادی تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
دونوں فریقین نے وفود کی سطح پر سرمایہ کاری اور تجارتی فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے کے مطابق آج کی ملاقات وزیر اعظم شہباز کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کا فالو اپ تھا۔
چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب سے واپسی پر صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے متحدہ عرب امارات میں رک تھے۔
ملاقات میں وزیراعظم نے امارات کے سینئر حکام سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) میں رکھے ہوئے 2 بلین ڈالر کے اپنے ذخائر واپس لے چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کے لیے وزیراعظم شہباز نے دوسرے عرب ممالک جیسے کویت ، بحرین اور قطر کے امیروں کو فون کیا ہے اور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے ۔ تاکہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور حکومتی ریلیف کا فائدہ اٹھائیں ۔ تاکہ اس سلسلے میں پاکستان کو فناشل ایڈ یا لون وغیرہ حاصل ہو جائے اور پاکستان میں جاری اقتصادی بحران پر قابو پایا جاسکے ، تاہم اس میں شہباز شریف کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں آنے والا وقت ہی بتائے گا۔









