2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ برداشت نہیں ہوگی، وزیراعظم

شہباز شریف کا کہنا ہے تاویلیں نہیں لوڈشیڈنگ میں کمی چاہیے ، عوام کو مشکلات سے نکالیں وضاحتیں نہ دیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت برداشت نہیں ہو گی ، عوام تکلیف میں ہوں اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ہنگامی اجلاس ہوا ، اجلاس میں شاہد خاقان عباسی ، مفتاح اسماعیل ، مصدق ملک اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں میں وزارت توانائی اور لیسکو حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

پیٹرول اور بجلی کے بعد گیس کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافے کی منظوری

اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں میں دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے ، جس پر وزیراعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے ، 10 گھنٹے سے زیادہ کی لوڈشیڈنگ جاری ہے آپ کہہ رہے کہ دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں آپ کے جھوٹ پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔

اس پر مصدق ملک نے کہا کہ سب کیا دھرا عمران خان حکومت ہے ۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر آپ مجھے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کی یہ تاویل دے رہے تو میں اس تاویل کو تسلیم نہیں کرتا ہوں۔

شہباز شریف نے ملک میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ پر وفاقی وزراء اور وزارت توانائی کے افسران پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کچھ بھی ہو 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

وزیراعظم نے وزراء اور حکام کی وضاحتیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مشکل سے نکالیں مجھے وضاحتیں نہ دیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات چاہیے ، عوام تکلیف میں ہوں اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

متعلقہ تحاریر