حکومت بجلی کے پلانٹس بند کرے یا چلائے ، عوام کو بجلی دے دے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے عمران خان حکومت میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی ، جبکہ موجودہ حکومت نے 21 پاور پلانٹس فعال کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا یکم مئی سے لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔

ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 7 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ہے ، 26 اپریل کو 27 بند پاور پلانٹس میں سے 21 کو فعال کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یکم مئی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی ، اتحادی حکومت مہربانی کرے فعال کیے گئے پاور پلانٹس کو بند کردے مگر عوام کو بجلی فراہم کردے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپریل کے مہینے مین قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں بجلی کی کمی  گزشتہ دور حکومت میں 27 پاور پلانٹ بند ہونے کی باعث  ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

مہنگی ایل این جی امیر صنعت کاروں کو کتنے ارزاں دام میں دستیاب ہے؟

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ڈالر کو پھر پر لگ گئے

انہوں نے تمام بند پاور پلانٹس فوری طور پر بحال کرنے کا حکم بھی دیا تھا، تاہم وزیر اعظم کے احکامات کے بعد ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ ہوگیا، اور اس ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے جبکہ دیہاتوں میں 18 ، 18 گھنٹوں تک جا پہنچا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے دعوؤں کے برعکس گزشتہ دور حکومت کے مقابلے میں آج ملک میں بجلی کا بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ اس وقت شہروں میں 8 سے 10 گھنٹے اور دیہاتوں میں 16 سے 18 گھنٹے تک بجلی غائب ہوتی ہے جس کی وجہ ملک میں بجلی کی رسد و طلب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو بتایا جاتا ہے ۔

شہباز شریف نے عہدے سنبھالنے کے بعد وزارت پٹرولیم اور توانائی کے حکام سے لوڈشیڈنگ کے معاملے پر بریفنگ لی اور قوم کو بتایا کہ ملک میں 35 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن گیس اور تیل پر چلنے والے مختلف پاور پلانٹس کی بندش کے باعث ملک کے مختلف حصوں کو گزشتہ چند ماہ سے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔

شہباز شریف کی جانب سے بجلی بحران کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہرایا گیا جبکہ پی ٹی آئی کے سابق وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے کہا کہ حکومت کے پاس اتنے پاور پلانٹس ہیں ہی نہیں تو پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ 27 میں سے 21 پلانٹس بند ہیں۔

حماد اظہر نے بتایا کہ جب  حکومت چھوڑ کر گئے تو اس وقت مجموعی طور پر پانچ پلانٹس تکنیکی بنیادوں پر بند تھے ان میں سے تین پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہمارے دور حکومت میں بجلی کی طلب و رسد میں کوئی فرق نہیں تھا جبکہ ہمارے پاس فرنس آئل کا دو لاکھ ٹن کا ذخیرہ موجود تھا۔”

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پیداوار کا شارٹ فال 4719 میگا واٹ ہے جبکہ 2554 میگا واٹ لائن لاسز کے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر شارٹ فال 7 ہزار میگا واٹ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

واضح رہے کہ مریم نواز نے رواں سال فروری میں بجلی کی قیمت میں اضافے کے خلاف عمران خان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کیا تھا کہ ” یہ واحد حکومت ہے جس میں عوام خود اپنے خلاف لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں روزانہ اضافے سے بجلی عوام کے دسترس سے باہر ہوگئی ہے۔ عوام سے روٹی اور دوسری ضروریات زندگی چھیننے کے بعد عوام سے وہ روشنیاں بھی چھین لی گئیں جو نوازشریف نے لوٹائی تھیں۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے عمران خان حکومت میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی ، وہ پاور پلانٹس جو بند تھے اور جنہیں شہباز شریف صاحب نے آکر فعال کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ یکم مئی سے ختم ہو جائے گی ، جبکہ الٹا اثر یہ ہونے لگا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہماری وزیراعظم صاحب سے گزارش ہے کہ آپ وہ 21 پاور پلانٹس جو آپ نے فعال کیے تھے وہ بند کردیں اور تاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے۔ گزشتہ حکومت میں وہ پاور پلانٹس جو بند تھے تو بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے آپ بھی وہ پاور پلانٹس بند کردیں اور بجلی واپس کردیں۔

متعلقہ تحاریر