بلاول بھٹو اور سیکریٹری جنرل او آئی سی کا بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر تشویش کا اظہار

وزیر خارجہ کا کہنا ہے بھارت میں اسلامو فوبیا اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کے روز اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحہٰ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہوں نے بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے لکھا ہے کہ ” بات چیت ہندوستان میں اسلامو فوبک کارروائیوں کے سلسلے پر مرکوز رہی، خاص طور پر بی جے پی کے دو سینئر عہدیداروں کی جانب سے کئے گئے تضحیک آمیز تبصروں پر۔”

یہ بھی پڑھیے

نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی، پرامن مسلمان مظاہرین پر ہندو انتہاپسندوں کے حملے

مسلسل بحرانوں کی وجہ سے طاقتور حلقے پریشان ہیں، عمران خان

انہوں نے کہا ہے کہ "انہوں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے بھارتی جنتا پارٹی کے عہدیداروں کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی مکمل طور پر ناقابل قبول اور قابل مذمت ہے۔”

بلاول بھٹو زرداری نے ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اس سے آج وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف سے بحث کرانے کی درخواست کی۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں گستاخانہ تبصروں پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی تھی۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے پیغمبر اسلام (ص) کی شان میں گستاخی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ توہین آمیز ریمارکس سے دنیا بھر کے 1.25 بلین مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

شہباز شریف نے لکھا کہ ہم قرارداد پاس کرکے پوری دنیا کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

متعلقہ تحاریر