ای سی ایل میں شامل افراد بیرون ملک سفر کے لیے وزارت داخلہ سے اجازت لیں، سپریم کورٹ

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کا کہنا ہے نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ حد سے تجاوز نہ کرے، ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات کا سامنا ہو۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل افراد کے بیرون ملک سفر کو وزارت داخلہ کی اجازت سے مشروط کر دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے حکومت بہت ہی کمزور وکٹ پر کھڑی ہے ، ملک کی سب سے بڑی جماعت پارلیمان سے باہر ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے ای سی ایل قوانین میں ترمیم اور تحقیقات میں حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے ہائی پروفائل مقدمات کا ریکارڈ جمع کروادیا گیا۔ جس کے مطابق وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت ایف آئی اے کے 14 ہائی پروفائل ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ سرکاری کام سے باہر جانے والوں کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ بیرون ملک جائیں ، تاہم ضروری ہے کہ جو ملزم بھی بیرون ملک جانا چاہے پہلے اسے وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ ملکی حالات اپنی نوعیت کے اور مختلف ہیں،ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے، سسٹم چلتا رہے کس کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل آفس نے ای سی ایل رولز میں ترمیم سے متعلق ایس او پیز بنا کر تمام اداروں کو بھجوا دئیے ہیں۔ جو نام ای سی ایل  سے نکالے گئے تھے ان کا دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے ایک سی ایل سے نام نکالنے سے متعلق کابینہ کمیٹی اجلاس کے منٹس کی بابت دریافت کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی کا اجلاس کل ہوا ، جس کے منٹس ایک دو روز میں فراہم کردیئے جائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت پارلیمنٹ سے باہر جا چکی ہے، ایگزیکٹو کو اپنے اختیارات آئین و قانون کی روشنی میں استعمال کرنا ہوں گے۔ یہ کسی کے لئے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ، نظر رکھیں گے کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے، ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں، جن لوگوں کے مقدمات زیر التوا ہیں ان کے لیے مروجہ طریقہ کار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے دریافت کیا کہ ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں، ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ قانون کی حاکمیت چاہتی ہے،یہ سوال بہت اہم ہے کہ مقتدر افراد نے ای سی ایل قواعد میں ترمیم سے فائدہ اٹھایا۔بتایا جائے کہ جن لوگوں نے ان قواعد میں تبدیلی کرکے فائدہ اٹھایا وہ رولز میں کیسے ترمیم کر سکتے ہیں؟۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی طرح ای سی ایل سے نام نکالے جاتے رہے۔

سپریم کورٹ نے مقدمہ کی مزید سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

متعلقہ تحاریر