وفاقی حکومت پہلی بار پی ٹی آئی کے خلاف دستاویزی ثبوت سامنے لے آئی
رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے عمران خان اور بشریٰ بی بی نے بحریہ ٹاؤن کے 50 ارب کے بدلے بطور رشوت زمین حاصل کی۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کی جانب سے ضبط کی گئی بحریہ ٹاؤن کی 50 ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ، اراضی واجبات کی مد میں ایڈجسٹ کرنے کی نہ صرف منظوری دے دی بلکہ مشیر شہزاد اکبر کی مدد سے 5 ارب روپے کمیشن بھی وصول کیا۔
اسلام آباد میں وزیر داخلہ کا دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ میڈیا اور دیگر ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے 50 ارب روپے کی رقم برطانیہ ٹرانسفر کی اور اسے مروجہ قانون کے تحت ٹرانسفر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ رقم وہاں ٹریس ہو گئی اور برطانوی حکام اور نیشنل کرائم ایجنسی نے وہ رقم قبضے ضبط کرلی۔
یہ بھی پڑھیے
بلاول بھٹو کی ایرانی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس، تعلقات نئی بلندیوں پر لیجانے کا عزم
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کیا کہ یہ رقم غیرقانونی ذرائع سے ہمارے پاس پہنچی ہے اور ہم نے اسے قبضے میں لے لیا ہے، اس کی ملکیت حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ہے تو یہاں سے ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے ریاست کی طرف سے اس معاملے کو دیکھا ، لیکن انہوں نے اس رقم کو پاکستان کے عوام کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنا حصہ مبینہ طور پر 5 ارب روپے طے کر کے دو نمبری کا طریقہ کار بنایا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ جب بیچ میں یہ چور پڑے تو انہوں نے اس طریقہ کار کے تحت یہاں ایک دستاویز مرتب کی کہ کس طرح سے ہم نے اس کا 50 ارب روپے محفوظ کرنا ہے اور اس نے پھر ہمیں 5 ارب روپے ہضم کرنا ہیں اور کس طرح سے عوامی پیسے پر ڈاکا ڈالنا ہے، یہ ہے ان کا صادق اور امین ہونا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ 3دسمبر 2019 کو اس وقت کی وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں لفافے میں بند کسی معاہدے کی منظوری دی گئی تھی اور یہ بتایا گیا کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کابینہ سے کہا کہ اس میں کوئی چیز ہے اور اس کی آپ منظوری دے دیں۔
رانا ثنا اللہ کاکہنا تھا کہ اس وقت میڈیا نے خبریں دی تھیں کہ کابینہ کے اراکین نے سوال کیا تھا کہ ہمیں بتائیں تو اس میں ہے کیا تو کابینہ ایک خاتون رکن نے بلند آواز میں کہا تھا کہ ہم آپ کو بعد میں بتا دیں گے، بس اس کی منظوری دے دیں، بعدازاں اس کی منظوری دے دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اُن دستاویز کی منظوری کے بعد شہزاد اکبر برطانیہ گئے اور وہاں جا کر یہ سارا عمل مکمل کرایا، اس کے بعد 50 ارب روپے بحریہ ٹاؤن کے قرضے کے بدلے ایڈجسٹ کرا دیا۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ایک ذیلی کمیٹی بنائی ہے جو اس سارے معاملے کی تحقیقات کرے گی اور ان تحقیقات کے نتیجے میں جو بھی چیز فائنل ہو گی وہ میڈیا اور عوام کے سامنے لائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ صادق اور امین ہیں جنہوں نے قوم کے 50ارب روپے گنوائے، قوم کے پیسے کو لُٹایا اور اس کے بدلے اپنا حصہ وصول کیا، حصہ وصول کرتے وقت بھی کوئی شرم و حیا نہیں تھی۔









