شہزاد اکبر کی رانا ثنااللہ پر کڑی تنقید، ابن جہل کہہ ڈالا
ملک فیملی نے ہائیڈ پارک نامی جائیداد نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے2016میں خریدی تھی

سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ کہ بقول رانا ثنا للہ کے لندن میں ملک فیملی کا پیسہ ملک کالوٹا ہوا تھا تو اس جاہل سے پوچھنا تھا کہ ملک فیملی نے اس پیسے سے ہائیڈ پارک نامی جائیداد نوازشریف کے بیٹے حسن نواز سے 2016 میں خریدی تھی اور رقم کی ادائیگی حسن نواز کو ہوئی وہ پیسے تو آج بھی حسن نواز کے پاس ہیں۔
شہزاد اکبر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ملک کے جاہل وزیر داخلہ نے اعتراف کر لیا کہ حسن نواز نے غیر قانونی پیسہ وصول کیا؟۔ تو اب ابن جہل یہ بتلا دیں اسکی واپسی کب کروا رہے ہیں؟ ۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی حکومت پہلی بار پی ٹی آئی کے خلاف دستاویزی ثبوت سامنے لے آئی
ان کا کہنا تھا کہ یہ نوازشریف کے ویسے دوست ہیں جن کے بارے میں بڑے کہتے ہیں کہ ایسے دوست سے دشمن بہتر ہوتا ہے ۔
شہزاد اکبر نے رانا ثنا اللہ کو مخاطب کرتے کہا کہ آپکے مالکان یعنی شریف خاندان نے ملک فیملی کو بلیک میل کرکے بشمول ہائیڈ پارک کون کون سی جائدادیں بیچیں۔ میرے پاس تمام ریکارڈ محفوظ ہے ۔کہیں گے تو پوری فہرست پیش کر دوں گا ؟۔
بقول رانا ثنا اللہ لندن میں ملک فیملی کا پیسہ ملک کالوٹا ہوا تھا تو اس جاہل سے پوچھنا تھا کہ ملک فیملی نے اس پیسے سے ۱ ہائیڈ پارک نامی جائداد نواز شریف کے بیٹے حسن نواز سے ۲۰۱۶/۷ میں خریدی تھی اور رقم کی ادائیگی حسن نواز کو ہوئی لہذا وہ پیسے تو آج بھی حسن نواز کے پاس ہیں ۱/۳
— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) June 14, 2022
خیال رہے کہ گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے انکشاف کیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کی جانب سے ضبط کی گئی بحریہ ٹاؤن کی 50 ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے، اراضی واجبات کی مد میں ایڈجسٹ کرنے کی نہ صرف منظوری دے دی بلکہ مشیر شہزاد اکبر کی مدد سے 5 ارب روپے کمیشن بھی وصول کیا۔
رانا ثنا الللہ میرے پاس ساری لسٹ موجود ہے کہ آپکے مالکان یعنی شریف خاندان نے ملک فیملی کو بلیک میل کرکے بشمول ۱ ہائیڈ پارک کون کون سی جائدادیں بھیچیں-کہیں گے تو پوری لسٹ پیش کر دوں گا ؟ ۳/۳
— Mirza Shahzad Akbar (@ShazadAkbar) June 14, 2022
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کیا کہ یہ رقم غیرقانونی ذرائع سے ہمارے پاس پہنچی ہے اور ہم نے اسے قبضے میں لے لیا ہے، اس کی ملکیت حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ہے تو یہاں سے ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر نے ریاست کی طرف سے اس معاملے کو دیکھا لیکن انہوں نے اس رقم کو پاکستان کے عوام کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنا حصہ مبینہ طور پر 5 ارب روپے طے کر کے دو نمبری کا طریقہ کار بنایا۔









