نئی نویلی شہباز حکومت کیلئے مشکل، اے این پی کا حکومت سے اتحاد ٹوٹنے کا امکان

ذرائع کا کہنا ہے اگر اے این پی کو مرکز میں اہم وزارت اور کے پی کے میں گورنرشپ نہ ملی تو وہ کسی بھی وقت اتحادی حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کرسکتی ہے۔

خیبر پختون خوا میں گورنرشپ نہ ملنے اور وفاق میں اہم وزارت نہ ملنے پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے شہباز شریف حکومت سے علیحدگی کے امکانات بہت بڑھ گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں گورنرشپ کے عہدے کو لے کر اے این پی اور اتحادی حکومت کے درمیان اختلافات کافی گہرے ہو گئے ، جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہا ہے کہ ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں اے این پی شہباز حکومت سے الگ ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیے

کے پی کے حکومت کے اخراجات میں کٹوتی کے احسن اقدامات

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں باران رحمت، گرمی کا زور ٹوٹ گیا

ذرائع کا کہنا ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی گورنر کا عہدہ مانگ لیا ہے جس کی وجہ سے شہباز شریف کے سر مشکل آن پڑی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ گورنر کے عہدے کے لیے مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے ، چونکہ اسمبلی میں سیٹوں کے تناسب سب سے زیادہ ہے اس لیے گورنر کے عہدے پر اس کا حق بنتا ہے۔

اتحادی حکومت کے درمیان خیبر پختون خوا کی گورنرشپ کو لے کر جو اختلاف سامنے آرہے ہیں اس پاکستان کے معروف صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "حکومتی وعدے کے باوجود گورنر شپ نہ دلوانے پر اے این پی کا حکومتی اتحاد سے نکلنے پر غور ۔۔۔ تمام اتحادی جماعتوں کی حمایت اور وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود میاں افتخار کو گورنر نہ بنانے پر اے این پی کی صفوں میں برہمی پائی جاتی ہے۔”

سلیم صافی نے مزید لکھا ہے کہ "کسی بھی وقت حکومت کی حمایت ختم کرنے کا اعلان ہوسکتا ہے۔”

کچھ بھی ہے ذرائع کا پھر بھی کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی اس عہدے سے دور رکھنا چاہتی ہے کیونکہ پی پی کو پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کا آئینی عہدہ دیا جاچکا ہے جب کہ اسے صدر اور چیئرمین سینیٹ کا عہدہ دیا جائے گا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا کی گورنرشپ پر پیپلز پارٹی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کا حق بنتا ہے اور اگر اے این پی کو گورنرشپ نہیں ملتی اور مرکز میں وزارت بھی نہیں ملتی تو یہ اتحاد چلتا دکھائی نہیں دیتا۔

متعلقہ تحاریر