سلیم صافی صحافی ہیں یا مبینہ دہشتگردوں کے ایجنٹ
نقیب اللہ محسود اور 400 سے زائد افراد کے قتل میں ملوث راؤ انوار کا انٹرویو کرنے پر سوشل میڈیا صارفین نے سلیم صافی پر سخت تنقید کی ہے۔
آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملے میں ملوث دہشتگرد احسان اللہ احسان کے بعد جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ” کے اینکر پرسن سلیم صافی نے نقیب اللہ محسود کے قتل میں نامزد ملزم سابق ایس ایس پی راؤ انوار کا انتہائی متنازع انٹرویو کرلیا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایسے لگتا ہے سلیم صافی صحافت نے دہشتگردوں کو پرموٹ کررہے ہیں۔
جرگہ میں بات کرتے ہوئے سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے الزام لگایا کہ نقیب اللہ محسود دہشتگرد تھا۔
راؤ انوار کا کہنا تھا کہ جو شخص مقابلے میں مارا گیا وہ نصیب اللہ محسود تھا جبکہ بعد کی تحقیقات کا پتا چلا کہ اس نے اپنا نام تبدیل کررکھا تھا اور اس کا نام نقیب اللہ محسود تھا ، جس کے خلاف گڈاپ اور سچل تھانے میں 2014 کی ایف آئی آر بھی درج تھی۔
یہ بھی پڑھیے
خرم دستگیر نے عمران خان حکومت کو ہٹانے کی اصل وجہ بتا دی
نئی نویلی شہباز حکومت کیلئے مشکل، اے این پی کا حکومت سے اتحاد ٹوٹنے کا امکان
سابق ایس ایس پی نے دعویٰ کیا کہ مارا جانے والا شخص نصیب اللہ ولد محمد خان تھا ، نقیب اللہ ولد محمد خان کا اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ یا "ب فارم” ہے تو میں پورے پاکستان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ سامنے لے کر آئے۔
دیکھئے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا انکشافات سے بھرپور خصوصی انٹرویو جرگہ میں سلیم صافی کے ساتھ آج شب 10 بجکر پانچ منٹ پر
براہ راست دیکھنے کیلئے| https://t.co/mbsn8JnSus#Jirga #GeoNews pic.twitter.com/oA59OfXHMG
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) June 18, 2022
بے نظیر بھٹو کے قتل سے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ایس ایس پی راؤ انوار کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں سابق صدر پرویز مشرف کا ہاتھ نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پر تو خود طالبان نے جان لیوا حملے کرائے تو وہ طالبان کے ساتھ کیسے مل سکتے تھے۔
راؤ انوار کا کہنا تھا پاکستان پیپلز پارٹی خود بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں سنجیدہ نہیں تھی۔
سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا تھا کہ "ہم کچھ لوگ آپ دیں گے ، آپ انہیں مار کر پھینک دیا کرنا۔”
متنازع شخصیت راؤ انوار کا انٹرویو کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے معروف صحافی سلیم صافی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سید فہد نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ ” یہ ہے جیو چینل جو پاکستان کا نامی گرامی چینل مانا جاتا ہے۔ اپنے پیپلز پارٹی سے تعلقات کی بہتری کیلیئے راؤ انوار جیسے کریمنل کو زرداری کا اچھا بچہ بنانے کی بھرپور مہم پہ گامزن ہے۔یہی صحافی یہی چینل تھا جس نے شہداء اے پی ایس کہ ذمہدار کو بھی ہیرو بنانے کی کوشش کی تھی۔ لعنت در لعنت۔”
ٹوئٹر صارف شاہد خان نےلکھا ہے کہ ” ایک مجرم اور سینکڑوں بےگناہ لوگوں کے قاتل کو بلاکر جیو نیوز اور خاص کر سلیم صافی کو شرم آنی چاہیے۔”
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلیم صافی صحافت کی دنیا میں ایک جانا مانا نام ہے ، انہیں ایسی صحافت سے اجتناب برتنا چاہیے ، راؤ انوار سے قبل انہوں نے اے پی ایس سانحے میں ملوث احسان اللہ احسان کا انٹرویو کیا تھا اور انہوں نے بھی دوران انٹرویو خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی جس سے طرح سے راؤ انوار اپنے آپ کو پاک باز ثابت کرنے کی ناکام کوشش رہا تھا۔









