کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات، قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس بلائے جانے کا امکان

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان سے مزاکرات کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کئے جانے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے معاملے پر پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس آئندہ دو سے تین روز میں‌ بلائے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان سے مزاکرات کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کئے جانے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور  ڈی جی آئی ایس آئی بریفنگ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

منی لانڈرنگ کیس، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ضمانت کا تفصیلی فیصلہ جاری

ماضی کی طرح قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس  قومی اسمبلی کے ہال میں منعقد کیا جائے گا۔ اس حوالے سے آج قومی اسمبلی کے ارکان نے باقاعدہ منظوری دی اور تحریک منظور کی جو وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔

کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات پر حکومتی اتحاد میں شامل پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لئے جانے پر  ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

سینیٹ میں حکومتی اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین نے آج کے اجلاس میں وزیردفاع سے مطالبہ کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔

حکومتی اتحادی میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا ہے، حکومت اور وزیر دفاع کو چاہیےکہ ایوان میں آکر اعتماد میں لیں۔

انہوں نے کہا کہ بند دروازوں کے پیچھے فیصلے نہ کئے جائیں، جرگہ بھیجنا اچھی بات ہو گی لیکن جرگہ پارلیمان کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ٹی ٹی پی کے ایک دھڑا نے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھادی ہیں، ٹی ٹی پی سے معاہدے کی کیا شرائط ہیں، جب تک معاملہ پارلیمنٹ میں نہیں آئے گا، اس کی قبولیت نہیں ہو گی۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ آج وزیرستان میں 4 نوجوان ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیے گیے، یہ نوجوان وزیر ستان میں تعلیم، صحت اور امن کے لیے کام کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں سے حکومت نے معاہدہ کیا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ روکی جائے گی لیکن آج وہ خود ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو گئے۔

متعلقہ تحاریر