بیان حلفی جھوٹا تھا؟ آصف زرداری امریکی فلیٹ کے مالک نکلے

پاکستانی صحافی وقاص سابق صدر کے نیویارک میں واقع فلیٹ کے دستاویزی ثبوت سامنے لے آیا، آصف زرداری نے رواں سال بھی فلیٹ کا ٹیکس ادا کیا،سابق صدر نے الیکشن کمیشن میں کوئی غیرملکی جائیداد نہ رکھنے کا حلف نامہ جمع کرایا تھا

 کیا سابق صدرپاکستان آصف زرداری  نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا حلف  نامہ جمع کرایا؟ پاکستانی صحافی نیویارک امریکا میں سابق صدر آصف زرداری  کے ملکیتی فلیٹ  کے  دستاویزی ثبوت سامنے لے آیا۔

سا بق صدر نے الیکشن کمیشن میں کوئی غیرملکی جائیداد نہ رکھنے کا حلف نامہ جمع کرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تحریک انصاف اور فوج کے درمیان برف پگھلنا شروع ہوگئی، اعجاز الحق

وزیراعظم شہباز شریف سابقہ حکومت کے کس منصوبے کے معترف؟

صحافی وقاص نے گزشتہ روز طویل ٹوئٹر تھریڈ میں  لکھا  کہ الیکشن کمیشن نے آج پاکستانی سیاستدانوں کے اثاثوں  کی تفصیلات جاری کی ہیں جس کے مطابق آصف علی زرداری بیرون ملک کوئی اثاثہ نہیں رکھتے ۔ اس تھریڈ کےذریعے میں ریاست نیویارک کے دستاویزی ثبوت شیئر کروں گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت یہاں جائیداد کے  مالک ہیں۔

وقاص نے لکھا کہ  پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 2021 میں 1.6 ارب روپے کے اثاثوں کے مالک تھے، ان کا بینک بیلنس 12 کروڑ  روپے سے زیادہ تھا جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 71 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ ان کے پاس بیرون ملک کوئی اثاثہ نہیں ہے۔

صحافی نے دعویٰ کیا کہ  پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے 9 جون 2007 کو 527 ایسٹ 72 اسٹریٹ، نیو یارک سٹی میں سنگل رہائشی کونڈو یونٹ خریدنے کے لیے 4لاکھ96ہزار875 ڈالر کا قرض حاصل کیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ 12 جون 2007 کو حاصل کردہ ڈیڈ سے واضح ہے کہ   آصف علی زرداری نے یہ جائیداد فروخت کی پوری قیمت 5لاکھ30ہزارڈالر پر حاصل کی۔

وقاص نے دعویٰ کیا کہ2011صدر پاکستان کے عہدے پر رہتے ہوئے آصف زرداری نےاسی جائیداد 524 ایسٹ 72 اسٹریٹ، نیویارک کیلیے لیا گیا  اپناقرض  ویلز فارگو بینک کو ادا کر دیا تھا ۔

صحافی کے مطابق  2015  میں صدر پاکستان کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعدآصف زرداری  اس پراپرٹی سے اتنے خوش تھے کہ انہوں نے45ہزارڈالر میں اس فلیٹ کیلیے پارکنگ کی جگہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور پارکنگ کی جگہ پر ٹیکس ادا کر رہے تھے۔

وقاص نے لکھا کہ گزشتہ سال آصف علی زرداری سے اس اپارٹمنٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کھلے عام جھوٹ  بولا کہ”میں نے  یہ فلیٹ جس سال خریدا تھا اسی سال بیچ  بھی دیا تھا“۔ لیکن جیسا کہ آپ دستاویزات سے دیکھ سکتے ہیں، وہ 2015 میں اپارٹمنٹ کے لیے پارکنگ کی جگہ خرید رہے تھے۔

صحافی وقاص نے مزید لکھا کہ آصف علی زرداری نے اس جائیداد کی  پاور آف اٹارنی مہرین شاہ نامی  خاتون کو دی ہے۔ وہ کون ہیں؟ اس  بات کا کوئی ریکارڈ  نہیں ہے کہ یہ جائیداد کسی اور کو فروخت کی گئی ہو۔ نیویارک سٹی کے ریکارڈ کے مطابق آصف علی زرداری اب بھی اس پراپرٹی کے مالک ہیں ، اس کے باوجود انہوں نے اسے اپنےگوشواروں  ظاہر نہیں کیا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ منی ٹریل فراہم نہیں کر سکتے۔

وقاص کے مطابق جہاں تک نیویارک سٹی  رئیل اسٹیٹ کا تعلق ہے، یہ کوئی بڑی جائیداد بھی نہیں ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اس چھوٹی سی  جائیدادکو بھی وہ تسلیم  کرنا اور جانچ پڑتال کے لیے پیش کرنا پسند نہیں کریں گے۔ آج کل سیاستدان کوئی چیز اپنے نام  نہیں رکھتے، وہ ٹرسٹ اور آف شور ہولڈنگ کمپنیاں بناتے ہیں۔

صحافی کے مطابق یہ صرف ہاتھی کی دم ہے۔لیکن یہ بالکل واضح ہے  پھر بھی  الیکشن کمیشن کچھ نہیں کرے گا، نیب کچھ نہیں کرے گا، نیوٹرل کچھ نہیں کریں گے۔ پاکستان ایک بنانا ری پبلک ہے جہاں قانون ایک مذاق ہے۔ 1999 میں امریکی سینیٹ نے نجی بینکنگ اور منی لانڈرنگ پر سماعت کی۔ سینیٹر کارل لیون نے کہا کہ سٹی بینک کے پاس نجی بینک کے بدمعاش کلائنٹس کی گیلری ہے اور اس نے زرداری کو ان بدمعاشوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔

لیکن 2011 میں وہی سینیٹر کارل لیون جو آصف علی زرداری کو کرپٹ بدمعاش کہتے تھے اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملے۔ کرپٹ بدمعاش کار آمدہو گیا؟ ان کے پاس اس  کیلیے کیا ہے؟ کیسے کوئی حکومت کی تبدیلی کا ایک کارآمد آلہ  بنتا ہے؟

صحافی نے مزید لکھا کہ  آصف زرداری کا عماد زبیری سے کیا تعلق ہے جو ان کے لیے سرکاری دورہ امریکاکا اہتمام کرتے تھے اور بعد میں انہیں غیر قانونی لابنگ کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ عماد زبیری ایک انتہائی مشتبہ کردار ہے، اسے فروری 2020 میں ٹیکس چوری، غیر ملکی اثر و رسوخ کی فروخت اور مالیاتی مہم کی خلاف ورزیوں کا جرم قبول کرنے پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

وقاص نے مزید لکھا کہ زرداری اتنے اچھے آدمی ہیں کہ انہوں نے اس سال بھی اس جائیدادپر ٹیکس ادا کیا۔ ذمے دار شہری  لیکن صرف پاکستان سے باہر۔  کیونکہ پاکستان  میں ان کا دعویٰ ہے کہ  وہ یہ جائیداد  2007 میں فروخت کرچکے تھے۔

متعلقہ تحاریر