معیشت کے حوالے سے ایک ہی دن میں دو اہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے آئی ایم ایف سے 1 نہیں 2 ارب ڈالر مل رہے ہیں، جبکہ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ  30 جون 2022 تک 6100 ارب روپے کے ٹیکس محصولات حاصل کرلیں گے۔

پاکستانی معیشت کے لیے ایک ساتھ دو اچھی خبریں، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا ہے پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 2 ارب ڈالر مل سکتے ہیں جبکہ ایف بی آر کا کہنا ہے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 6 ہزار ارب سے زائد محصولات جمع کر لیے گئے ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی کے زیراہتمام ٹرن اراؤنڈ کانفرنس (ٹی اے سی) سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا "وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے صبح ایک پیغام کے ذریعے مجھے بتایا کہ امید ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف سے 1 بلین ڈالر نہیں بلکہ 2 بلین ڈالر ملیں گے۔ تاہم میں نے ان سے کہا کہ ہماری اصل منزل خودانحصاری ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

سود کے خلاف فیصلے پر اپیل، علماکرام کا متعلقہ بینکس کے بائیکاٹ کا اعلان

سی ڈی ڈبلیو پی نے 34.8 ارب روپے کے 13 منصوبوں کی منظوری دے دی

وزیر اعظم نے ملکی ترقی کے ساتھ ساتھ خود انحصاری کی منزل حاصل کرنے کے لیے تمام حلقوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خود انحصاری سیاسی اور اقتصادی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔

وزیر اعظم کے تبصرے اسماعیل کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں کہ ملک نے اپنے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے لیے مشترکہ اقتصادی اور مالیاتی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا صاحب ثروت حضرات نے سپر ٹیکس کو صبر شکر سے قبول کیا ہے، ہم سپر ٹیکس سے جمع ہونے والا پیسہ ضائع نہیں ہوگا اور سرکاری اخراجات پر خرچ نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا سپر ٹیکس سے حاصل ہونے والے 230 ارب روپے ملکی ترقی و خوش حالی پر خرچ کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم 14 ماہ میں معاشی استحکام لانے کی پوری کوشش کریں گے، معاشی استحکام  سیاسی  استحکام سے  جڑا ہوا ہے۔

بنگلہ دیش میں حال ہی میں ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کے افتتاح کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کے ہم منصب نے فخریہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے  6 ارب ڈالر کی لاگت سے بڑا انفرا اسٹرکچر بنایا ہے اور یہ کارنامہ بین الاقوامی ڈونرز کی مدد کے بغیر حاصل کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا "یقیناً، یہ ایک بڑی کامیابی ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں وسائل یا مہارت کی کمی نہیں ہے۔

انہوں نے ریکوڈک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اربوں کا نقصان کیا لیکن ابھی تک اس منصوبے سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ پاکستان قرضوں کے نیچے ڈوب رہا ہے، ملک کے واجبات اس کے اثاثوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 1200 میگاواٹ کا حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ جو سابق مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے لگایا تھا، ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس آزادی کے 75 سال بعد دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تاہم میرا ماننا ہے کہ”لیکن گرے ہوئے دودھ پر رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔”

وزیر اعظم شہباز نے مزید کہا کہ پاکستان کو لاتعداد مسائل کا سامنا ہے لیکن ہمیں ان تمام مسائل کو ذاتی مفادات اور اختلافات سے بالاتر ہوکر حل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہر نئی آنے والی حکومت پچھلی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔ ہمیں ملک کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم دائروں میں گھومتے رہیں گے۔”

دوسری جانب ترجمان ایف بی آر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایف۔بی۔آر نے چھ ہزار ارب سے زائد محصولات جمع کر لیے ہیں۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق رواں مالی سال 2021-22 کے لیے مقرر کردہ ابتدائی ٹارگٹ 5829 ارب روپے گزشتہ ہفتے حاصل کر لیا گیا تھا۔

ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے ایف بی آر 30 جون 2022 تک 6100 ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ترجمان کے مطابق اس تاریخ ساز کامیابی پر چیرمین ایف بی آر کی طرف سے اپنی پوری ٹیم اور قوم کو مبارکباد دی ہے۔

متعلقہ تحاریر