ایاز امیر واقعہ کے بعد عمران ریاض اور حلیم عادل شیخ کی گرفتاری، کیا پنجاب حکومت فاشزم کی طرف جارہی ہے؟

سینئر اینکر پرسن عمران ریاض کو پنجاب پولیس کے اہلکاروں نے اٹک سے گرفتار کرلیا ہے جبکہ حلیم عادل شیخ کو لاہور کے نجی ہوٹل سے سادہ لباس اہلکار اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

اتحادی حکومت کے شدید ترین ناقد سینئر اینکر پرسن عمران ریاض کو پولیس نے اٹک سے گرفتار کرلیا ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور رہنما تحریک انصاف حلیم عادل شیخ کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا ، یاد رہے کہ لاہور ہی میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار ایاز امیر پر کچھ  نہ معلوم افراد نے حملہ کرکے شدید زدوکوب کیا تھا۔ تجزیہ کاروں  نے ان تینوں واقعات کو لے کر حمزہ شہباز شریف کی حکومت پر سخت تنقید کی اور مذکورہ  افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

عمران ریاض جو اس وقت ایکسپریس نیوز سے وابستہ ہیں کو کئی مقدمات کا سامنا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے بیل بھی حاصل کررکھی ہے۔ عمران ریاض کا کہنا ہے انہیں "سچ بولنے سے روکنے” کے لیے کہا جارہا جس سے وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اینکر پرسن عمران ریاض کے خلاف مختلف تھانوں میں 1 درجن سے زائد ایف آئی آر درج ہیں جس میں لوگوں کو بغاوت پر اکسانے جیسے سنگین الزامات بھی لگائے گئے ہین۔

سینئر اینکر پرسن عمران ریاض کی گرفتاری کی ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے ، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پنجاب پولیس کے ایک درجن سے زائد اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمران ریاض کو اٹک تھانے میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسی ضلع میں لے جایا گیا تھا۔

پولیس نے اینکر پرسن عمران خان کا موبائل فون اور پرس بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

ویڈیو میں عمران ریاض کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ "وہ اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) سے ضمانت لینے وفاقی دارالحکومت آ رہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس گرفتاری سے کوئی فرق پڑتا ہے. میں تمام صحافیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ آواز اٹھائیں اور اپنی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری گرفتاری توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

عمران ریاض کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ”جہاں سے مجھے گرفتار کیا گیا ہے یہ اسلام آباد کی حدود ہے ، کیونکہ یہاں سے ٹول پلازہ شروع ہوتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ (چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ) نے بھی میری ضمانت لی تھی اس لیے اس صورتحال میں یہ گرفتاری سراسر توہین عدالت ہے۔ مجھے آج صبح ضمانت میں توسیع کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہونا تھا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ مجھے قید کریں یا مجھے ماریں یا جو کچھ بھی کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے فرائض ادا کرتے رہنا چاہیے، میں تمام صحافیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ آواز بلند کریں اور اپنا کام کرتے رہیں۔

عمران ریاض کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ "میری گاڑی اور اسلحہ حکام نے چھین لیا ہے اور میرے خلاف 20 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔‘‘

پنجاب کے وزیر قانون ملک احمد نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ "عمران ریاض کو راولپنڈی ڈویژن کی حدود  سے گرفتار کیا گیا کیونکہ ان کے خلاف پنجاب میں مقدمات درج ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "یہ تاثر غلط ہے کہ گرفتاری اسلام آباد میں کی گئی۔”

حلیم عادل شیخ کی گرفتاری اور سابق گورنر عمران اسماعیل کا خدشہ

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور رہنما تحریک انصاف حلیم عادل شیخ کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا ہے، انہیں ایک نجی ہوٹل سے حراست میں لیا گیا ہے ، سادہ لباس افراد ہوٹل میں داخل ہوئے اور حلیم عادل شیخ کو اپنے ساتھ لے گئے ، حلیم عادل شیخ گزشتہ روز لاہور پہنچے تھے۔

حلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کہیں ظاہر نہیں کی جارہی ، خدشہ ہے سندھ حکومت کے جرائم پیشہ افراد نے انہیں اغواء کیا ہے ، کسی بھی قسم کا نقصان ہوا تو ذمہ دار سندھ حکومت ہو گی۔

متعلقہ تحاریر