پاکستانی صحافی انس ملک کی کابل میں پراسرار گمشدگی کے بعد واپسی

انس ملک گزشتہ روز کابل پہنچے تھے،ایمن الظواہری کی مبینہ رہائشگاہ کی وڈیو بناکر بھارتی میڈیا پر نشر کروائی تھی، گزشتہ شام لاپتہ ہوگئے تھے، پاکستانی سفارتخانے نے معاملہ افغان طالبان کے سامنے اٹھایا تھا

بھارت کے پہلے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک ورلڈ از ون نیوز(وائیون) سے منسلک پاکستانی صحافی انس ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لاپتہ  ہونے کے بعد واپس آگئے۔

انس ملک طالبان حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر افغانستان کے حالات کا جائزہ لینے کابل پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

امریکا نے ایمن الظواہری پر حملے کیلیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کی، چینی اخبار

 

صحافی اسد طور نے دعویٰ کیا ہے کہ انس ملک بخیریت واپس آگئے ہیں۔

اس سے قبل بھارتی ٹوئٹر ہینڈلز کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا تھا کہ انس ملک نے اپنے صحافتی ادارے کیلیے کابل میں ایمن الظواہری کی مبینہ رہائش گاہ کی وڈیو بنائی تھی اور مبینہ طور پر یہی وڈیو ان کی گمشدگی کی وجہ بنی ہے۔

انس ملک نے گزشتہ روز اپنے ٹوئٹ میں کابل پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کابل سے ہیلو، ایک سال ہوگیا اور ہم سقوط کابل یا طالبان ملک پر قبضے کی پہلی سالگرہ پر صورتحال کا جائزہ لینے کیلیے یہاں واپس آئے ہیں۔

انس ملک کے بھائی حسان ملک نے اپنے بھائی کی گمشدگی کی تصدیق کردی ہے۔ حسان ملک نے  وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کے نام اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ میرے بڑے بھائی اور صحافی انس ملک کابل میں   12 گھنٹے سے لاپتہ ہیں۔ حکام سے  درخواست ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں اور  انکی جلد بحفاظت واپسی یقینی بنائیں۔

صحافی مونا خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ہمارے دوست اور ساتھی  انس ملک  جمعرات کی دوپہر سے کابل میں لاپتہ ہیں، کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے یہ معاملہ طالبان حکومت اور انٹیلی جنس کے ساتھ اٹھایا ہے۔ ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا اور نہ ہی کسی نے ان کے حوالے سے کوئی دعویٰ کیا ،ان کے دونوں نمبر بند ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ انس ملک کی گزشتہ روز کابل سے گمشدگی پر گہری  تشویش ہے، دفتر خارجہ ان کی جلد اور بحفاظت واپسی کیلیے افغان حکام اور کابل میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطے میں ہے۔

 تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری سمیت پاکستانی اور بھارت کے نامور کئی صحافیوں  نے بھی انس  ملک کی گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما  اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مونا خان کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے  کہا کہ پریشان کن  خبر ہے، انس ملک بہادر نوجوان اور متحرک رپورٹر ہے، دفتر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کیس کی بھرپور پیروی کی جائے۔

دفترخارجہ کے سابق ترجمان اور جرمنی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر فیصل نےاپنے ٹوئٹ میں  کابل میں پاکستانی سفیر، ڈی جی آئی ایس پی اور دفتر خارجہ کو ٹیگ کرتے ہوئے انس ملک کی بحفاظت واپسی کی دعا کی ہے۔

فاطمہ بھٹو نے لکھا کہ انس ملک کی گمشدگی کی خبر پریشان کُن ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ وہ محفوظ ہوں گے اور جلد مل جائیں گے۔

طالبان اور قبائلی امور کےماہر پاکستانی صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے صحافی مونا خان کی ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاکہ اللہ کرے کہ خیریت سے ہو لیکن ان کو ذرا سمجھائیے گا کہ جنگ زدہ علاقے سے کام کرنے سے پہلے کوئی اس طرح تصویریں شئیر نہیں کرتا۔

متعلقہ تحاریر