ممنوعہ فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کی درخواست پر لارجر بینچ تشکیل، سماعت 18 اگست کو ہوگی

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو 10اگست کو  اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ نےممنوعہ  فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے لارجر بنچ تشکیل دے دیا جو 18 اگست کو مقدمے کی سماعت کرے گا۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی  کی درخواست پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

ممنوعہ فنڈنگ کیس: ایف آئی اے نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو طلب کرلیا

انور منصور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وکیل کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکا جائے اور الیکشن کمیشن کا شوکازنوٹس کالعدم قرار دیا جائے۔

جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس معاملہ سمیت تمام امور کا فیصلہ لارجر بینچ کرے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیتے ہوئے،مقدمہ کی سماعت 18 اگست تک ملتوی کردی۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کو 10اگست کو  اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کی کارروائی غیر قانونی قرار دی جائے اور اس حوالے سے جاری کیا گیا شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو فریق بنایا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سےچیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 2اگست کو آٹھ برس  کی سماعت کےبعد سنایا گیا تھا۔

 فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوگیا ہے۔پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری  کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔

الیکشن کمیشن نے 70 صفحات پر مشتمل فیصلے میں 351 غیر ملکی کمپنیوں اور 34 افراد سے ملنے والی فنڈنگ کو ممنوعہ قرار دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ 13 اکاؤنٹس پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے کھلوائے مگر ان سے لاتعلقی ظاہر کی، اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنا پی ٹی آئی کی جانب سے آرٹیکل 17 (3) کی خلاف ورزی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں مزید کہا  تھا کہ 2008 سے 2013 تک عمران خان کے جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹ صریحاً غلط ہیں، عمران خان کے سرٹیفکیٹ اسٹیٹ بینک ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔

متعلقہ تحاریر