شہباز گل پر تشدد ، افسانہ نہیں حقیقت ہے ، حامد میر کا انکشاف

جیو نیوز پروگرام کیپیٹل ٹاک کے اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ شہباز گل کے نازک حصوں پر تشدد کیا گیا جو ٹی وی پر دکھائے بھی نہیں جاسکتے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بعد جیو نیوز کے معروف اینکر پرسن حامد میر نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل پر جیل میں تشدد کی تصدیق کردی ہے۔

جیو نیوز کے معروف پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان حامد میر کا کہنا تھا کہ میں جیل میں شہباز گل سے ملاقات کی ہے ، ان کے جسم کے ان حصوں پر تشدد کیا گیا ہے جو کون اسکرین پر دکھایا نہیں جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز گل کو برہنہ کرکے اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جارہا ہے، عمران خان

شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ: ہائی کورٹ کا سیشن جج کو نظرثانی درخواست پر فیصلے کا حکم

تشدد کے حوالے سے قانونی رائے طلب کرتے حامد میر نے معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا۔ جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے میڈیکل ایگزیمینیشن میں تو دکھانا پڑتا ہے ، اگر تشدد ہوا ہے ، کیونکہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے، اگر تشدد ہوا ہوگا تو میڈیکل ایگزیمینیشن میں یہ باتیں سامنے آجائیں گے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا اگر یہ تشدد اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہوا ہے ، تو پھر جو آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملہ واپس بھیجا ہے ، جوڈیشل مجسٹریٹ کو یہ دوبارہ فیصلہ کیا جائے کہ اسلام آباد پولیس کو ریمانڈ دینا ہے یا نہیں۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں یہ بہت اہم عنصر ہوگا کہ اسلام آباد پولیس کی نگرانی میں تشدد ہوا یا نہیں ہوا۔

سلمان اکرم راجہ کی قانون رائے کے بعد پروگرام اینکر پرسن حامد میر کا کہنا تھا کہ میری اطلاعات کے مطابق شہباز گل پر تشدد اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا ایک نجی ٹی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ جیل میں شہباز گل پر تشدد ہوا ہے اور تشدد بھی برہنہ کرکے کیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز گل سے وکیل نے ملاقات کرنے کے بعد مجھے بتایا کہ انہیں برہنہ کرکے تشدد کیا جا رہا ہےمجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا کہ یہ کیسے حیوان لوگ ہیں۔

دوسری جانب وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر) ہاشم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ "اڈیالہ جیل کے پریس ٹاک کے بعد میرے علم میں آیا ہے کہ جیل داخلے کی پہلی رات شہباز گل کو غیر قانونی طور پہ چکی میں رکھا گیا جو کہ کسی بھی قیدی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے ڈی آئی جی اور سپریٹنڈنٹ کو ہٹانے کے لیے مجاز اتھارٹی کو کہہ دیا ہے۔”

نیوز 360 کو جیل ذرائع نے بتایا ہے کہ "تشدد کے بعد شہباز گل کی طبیعت بگڑ گئی تھی جس کے انہیں جیل کے ہی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔”

متعلقہ تحاریر