دعا زہرا کیس: پولیس کی چارج شیٹ میں ظہیر احمد پر ریپ کے الزامات عائد

ملزم ظہیر احمد کی  مالی مشکلات میں اضافے ہونے پر زنیرا ماہم نے ملزم کے لیے فنڈز جمع کرنے شروع کردیئے، زنیرا کی  آڈیو لیک ہوگئی

دعا زہرا کیس کے مرکزی ملزم ظہیر احمد کے خلاف پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں جنسی زیادتی کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔ کیس  کے  تفتیشی افسر (آئی او ) سعید رند کی تیار کردہ چارج شیٹ میں عصمت دری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

مرکزی ملزم ظہیر احمد کو کراچی کی ایک نابالغ لڑکی کے مبینہ اغوا اور اس کی کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں تفتیشی افسر (آئی او ) سعید رند کی تیار کردہ چارج شیٹ میں عصمت دری کے الزامات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرا کیس، مہدی کاظمی کی نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست

باخبر ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ آئی او سعید رند نے ظہیر  احمد کے خلاف نابالغ لڑکی کے اغوا اور کم عمری میں شادی کے کیس میں ریپ کے الزامات شامل کیے ہیں۔چارج شیٹ(آج) بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

پولیس کی چارج شیٹ رپورٹ میں ظہیر کے خلاف عصمت دری کے الزامات شامل ہونے کے بعد انکی قانونی مشکلات بڑھ گئیں جبکہ مالی مشکلات بھی زیادہ ہونے لگی ہیں جس کے باعث ان کے لیے فنڈ اکٹھا کیا جارہا ہے ۔

یوٹیوبر زنیرہ ماہم کی ایک آڈیو لیک بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں اس نے ظہیر اور اس کے خاندان کے لیے کسی سے فنڈز مانگے ہیں۔

 

زنیرہ ماہم کو ایک خاتون سے ظہیر اور اس کی والدہ کو مالی مدد فراہم کرنے کا کہتے ہوئے سنا گیا کیونکہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے وکیل کے ذریعے مزید درخواستیں دائر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر ظہیر کے وکیل جعفری نے ابھی تک کوئی فیس نہیں مانگی تاہم ظہیر کو اپنے خلاف مقدمات میں اپنا دفاع کرنے کے لیے معمول کے اخراجات کے لیے رقم کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ظہیر اور اس کا بھائی اس وقت قید ہیں جبکہ اس کی والدہ مزید درخواستیں عدالتوں میں منتقل کرنا چاہتی ہیں۔ یوٹیوبر نے کہا کہ وہ فی الحال کیس کی کارروائی کے دوران اپنے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں۔

زنیرا ماہم  کی گفتگو میں سنا جا سکتا ہے کہ  وہ خاتون سے  کہہ رہی ہیں کہ وہ ظہیر کی والدہ کو مطلع کرے گی اگر وہ اس کی مدد کے لیے کچھ رقم فراہم کرنا چاہتی ہیں۔

16 اگست کو مغوی لڑکی کے والد مہدی علی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ پولیس نے استغاثہ کے ذریعے عدالت میں سیکشن 363/364-A/368/375/34 PPC کے تحت چالان جمع کرایا۔

 

متعلقہ تحاریر