قائمہ کمیٹی نے شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کے خلاف مقدمات ختم کرنے کی سفارش کردی
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پولیس چھاپہ سے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، جب تحریک طالبان کو ایمنیسٹی دی جاسکتی ہے تو بچی کو کیوں نہیں۔؟
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ کے خلاف مقدمات واپس لینے کی سفارش کردی گئی۔کمیٹی رکن مشاہد حسین سید نے کہا کہ تحریک طالبان کومعافی دی جاسکتی ہے تو ڈرائیور کے اہل خانہ کو کیوں نہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس اس چیئرمین سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی مذمت کی۔
یہ بھی پڑھیے
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ، نواز شریف کی سیاسی اور قانونی مشکلات مزید بڑھ گئیں
حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے آئی ایم ایف کی مشکل شرائط پر سرتسلیم خم کرلیا
آئی جی پولیس اسلام آباد نے قائمہ کمیٹی سے درخواست کی کہ اس معاملے پر کوئی ہدایت جاری نہ کی جائے کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔تاہم قائمہ کمیٹی نے اسپیکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد کی درخواست مسترد کردی۔قائمہ کمیٹی نے شہباز گل کے ڈرائیوراظہار اللہ خان کی اہلیہ سائرہ ظفر اور ان کے اہل خانہ کی گرفتاری اور کارروائی کی شدید مذمت کی اور کہا یہ اس معاملے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔اجلاس میں وزارت انسانی حقوق کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے ڈرائیور اظہار اللہ خان کی اہلیہ سائرہ ظفر کی گرفتاری کے حوالے سے بریفننگ دی جس میں بتایا گیا کہ 11 اگست کو ڈاکٹر شہباز گل کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی برآمدگی کے لئے ان کے ڈرائیور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد اکبر ناصر خان نے کمیٹی کو بتایا کہ تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں سائرہ ظفر اور ان کے بھائی ملک نعمان رضا کے خلاف کار سرکار میں مداخلت پر مقدمات درج کیے گئے۔
اس سوال پر کہ قانون کی کس شق کے تحت جرم کے ارتکاب میں مطلوب شخص کے رشتہ داروں خصوصاً میاں بیوی اور دس ماہ کے بچے کی ماں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، آئی جی پولیس نے کہا کہ پولیس کسی بھی ایسے شخص کو گرفتار کر سکتی ہے جو کسی بھی مجرمانہ سرگرمی کا الزام ہو۔
اس سوال پر کہ کیا ہاؤس وائف کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے ہےجن پر کوئی الزام نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو مطلوب ہیں، پاکستان کے آئین میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس صورت میں گرفتار کیا جا سکتا ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی یا جرم میں ملوث ہو۔آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ ڈرائیور کی اہلیہ نے پولیس پارٹی پر حملہ اور کار سرکار میں مداخلت کی جو پاکستان پینل کوڈ 1860 کے تحت جرم ہے۔
شہباز گل کے ڈرائیور کی اہلیہ سائرہ ظفر نے کمیٹی کو پولیس چھاپے کے حوالے سے بتایا کہ 11 تاریخ کو رات پولیس نے گھر کی دیوار پھلانگی، پولیس دروازہ توڑ کر گھر داخل ہوئی اور بھائیوں پر تشدد کیا، والدین نے پوچھا آپ قانونی طریقے سے کیوں نہیں آئے؟ انھوں نے مزید کہا کہ پہلے میرے خاوند اظہار کا پوچھا پھر کہا اسکی اہلیہ کو ساتھ لیکر جائیں گے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پولیس چھاپہ سے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، آئی جی صاحب نے لمبی فہرست تھما دی ہے ،یہ شریف لوگ ہیں پولیس والے کی شرٹ کیسے پھاڑی گئی؟ ہم ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہنا تھاکہ کمیٹی کا بنیادی مقصد عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر وارنٹ کے ’’گرفتاری اور تلاشی‘‘، ایک تھانے سے دوسرے تھانے میں آنکھ پر پٹی باندھ کے منتقل کیا جانا اور بغیر کسی جرم کے بند کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ گمشدہ سمارٹ فون کی تلاش کے لیے وفاقی دارالحکومت میں چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا جس جماعتیں وابستگی سے بالاتر ہو کر شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس کمیٹی سیاست کے لئے نہیں ہے یہ پاکستان کے لوگوں کے بارے میں ہے۔سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا تھا تحریک طالبان کو معافی دی جا سکتی ہے تو ڈرائیور کے اہل خانہ کو کیوں نہیں۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں جس طرح کمیٹی نے خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیا ہے "اس طرح کے اقدامات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور کسی فرد یا پارٹی کے لئے مخصوص نہیں ہونے چاہئیں۔
سینیٹر سیمی ایزدی اور سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے اور اسی طرح کے کیسز کی تعداد اور جیلوں کی صفائی کا معائنہ کرنے کی سفارش کی۔
انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے کمیٹی کو بتایا کہ رات کو چھاپہ مارنا درست عمل نہیں ہے، ہماری جیلوں میں 80 فیصد خواتین بچوں کے ساتھ جیل میں ہیں، یہ بہت بڑا انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور ہمیں اس حوالے سے قانون سازی کرنا ہوگی۔
کمیٹی نے اپنے سفارشات میں کہا کہ یہ سیاسی مقاصد کے طور پر ٹارگٹ کا کیس اور ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔









