وفاقی حکومت کا سی پیک اتھارٹی ختم کرنے کا فیصلہ

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے سی پیک اتھارٹی ایک شخص کو نوازنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، سی پیک اتھارٹی صرف ایک شخص کو نوازنے کے لیے بنائی گئی، کوئی عملی کام نہ کرسکی۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ سی پیک اتھارٹی ، سی پیک کو سست کرنے کا سبب بنی ہوئی ہے اور اداروں اور متعلقہ وزارتوں کے  دائرہ کار میں الجھاؤ پیدا کر رہی ہے، اسی لیے حکومت  سی پیک اتھارٹی کو ختم کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ممنوعہ فنڈنگ کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے وضاحت مانگ لی

نواز شریف واپس آرہے ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ ادارے کتنے نیوٹرل ہوئے ہیں، جاوید لطیف

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت میں احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک اتھارٹی ایک شخص کو نوازنے کیلئے بنائی گئی تھی، اتھارٹی کے تحت سی پیک پر کام کی رفتار سست ہوئی، سی پیک اتھارٹی مختلف وزارتوں کے درمیان الجھن کا سبب بنی۔

میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہاکہ سی پیک اتھارٹی ختم کرنا ضروری ہے، وزارت منصوبہ بندی کے تحت سی پیک میں 29 ارب کی سرمایہ کاری آئی، اتھارٹی بننے کے بعد سرمایہ کاری آنیکا سلسلہ تقریبا رک گیا تھا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا پلاننگ کمیشن میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک اتھارٹی کو تیز تر چلائے گا، اتھارٹی ختم ہونے سے ہر وزارت اپنے اپنے متعلقہ پراجیکٹ پر تیز کام کر سکے گی۔

میڈیا سے بات چیت سے قبل ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام  سی پیک سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ پاکستان سال 2022 تک ایک بھی اکنامک زون نہیں بنا سکا، تین ماہ پہلے خودساختہ سقراط اور بقراط پاکستان کو دیوالیہ ہونے پر شرطیں لگا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کے دیوالیہ ہونے پر شرطیں لگانے والے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، اب پاکستان کی معیشت اٹھنا شروع ہوگئی ہے، توانائی کے واجبات کلیئر کرنے کی پوزیشن آجائیں گے، توانائی کے شعبے میں چین کمپنیوں کے واجبات جلد ادا کریں گے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کو حقیقی آزادی دے کر نہیں گئے، کیا ملک کو  قرضوں میں جکڑنا حقیقی آزادی ہے،پاکستان کو آج دوستوں سے پیکج اور قرضے مانگنے پر مجبور ہے۔

متعلقہ تحاریر