عمران ریاض اور ایاز امیر کی سنگین نتائج بھگتنے کے باجود اداروں پر کڑی تنقید
عمران ریاض خان کو اسی سلسلے کی پہلی تقریب میں اداروں پر تنقید کے بعد جیل بھیجا گیا تھا جب کہ ایاز امیر کو ان کے دفتر کے باہر کچھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

سینئر صحافی ایاز امیر اور عمران ریاض خان نے اسلام آباد میں عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے آزادی اظہار سیمینار میں پھر حکومت اور اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناڈالا۔
سیمینار میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت کئی صحافیوں، دانشوروں اور سیاستدانوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے
مر جاؤں گا چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا، عمران خان کا انتہائی جارحانہ خطاب
جوڈیشل مجسٹریٹ کا شہباز گل کو پیر تک پمز اسپتال میں رکھنے کا حکم
دونوں صحافی ماضی میں سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے باوجود حالیہ سیمینار میں ایک بار پھر اداروں اور موجودہ حکومت پر خوب برسے۔ عمران ریاض خان کو اسی سلسلے کی پہلی تقریب میں اداروں پر تنقید کے بعد جیل بھیجا گیا تھا جب کہ ایاز امیر کو ان کے دفتر کے باہر کچھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
ہم آپ کے بندے ہیں وگرنہ بیرونی ایجنسیاں نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا!!! @ImranRiazKhan pic.twitter.com/TKmsGUrJlY
— M Azhar Siddique (@AzharSiddique) August 18, 2022
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران ریاض خان نے کہا کہ ہم ہیں پاکستان کے سب سے بڑے مجرم،پکڑوہمیں، ہمیں بند کرو ،تمہارا پٹرول سستا ہوجائے گا، ہمیں بند کرو بجلی سستی ملے گی، ہماری زبان بند کرو ، ہمیں نشان عبرت بناؤ ، تمہیں گیس سستی ملے گی،تمہاری مہنگائی ختم ہوجائے گی ، تمہارا ڈالر 100 روپے کا ہوجائے گا، پکڑو ہمیں، اسی لیے پکڑنا ہے نا کہ یہ باتیں ہم بتاتے ہیں۔
عمران ریاض خان نے مزید کہا کہ ایک چھوٹی سی چیز پر توجہ دلاتا ہوں ، یہ جو کہتے ہیں کہ ہم ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، جو لوگ سائنس پڑھتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ ایک لٹمس ٹیسٹ ہوتا ہےکہ وہ فوراً لال یا نیلا ہوجاتا ہے کہ یہاں تیزاب ہے یا اساس ہے، میں آپ کو ابھی ایک منٹ میں ثابت کردیتا ہوں۔صابر شاکر غدار ہے نا؟ اس پر غداری اور بغاوت کا مقدمہ ہے ، ارشد شریف بھی غدار ہے، یہ دوتین غدار سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، میں بھی غدار ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ کیا نہیں کیا؟پرچے کیے،سڑکوں پر مارا، تھانوں میں مارا، ہمیں بند رکھا،ہمیں گھسیٹے رہے ،جگاتے رہے، بیلٹوں سے مارتے رہے، کبھی کوئی ایک ٹیلی فون آیا آپ کودنیا سے؟ اس شہر میں کتنے سفارتخانے ہیں،کسی ایک نے آپ کو کہا ہو کہ کیوں مار رہے ہو؟کسی ایک نے مذمت کی ہو؟ کبھی کوئی بین الاقوامی ادارہ بولا ہمارے لیے؟نہیں بولا اور نہیں بولے گا کیونکہ ہم ان کا اثاثہ نہیں ہیں۔
عمران ریاض خان نے تقریب کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمہارا اثاثہ ہیں نہ تمہارے لیے کوئی بولے گا نہ ہمارے لیے کوئی بولے گا۔
پنجاب میں ضمنی انتخابات میں شکست کا سب سے زیادہ دکھ لندن میں ہوا کہ یہ لاہور میں کیا ہوا اور کیوں ہوا- ایاز امیر pic.twitter.com/c0BVVneWHa
— PTI (@PTIofficial) August 18, 2022
سینئر صحافی ایاز امیر نے پنجاب کی ضمنی الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گنتی 12 سے شروع ہورہی تھی، اب جو ہوا دو دن بعد وہ ہم جیسے تجربہ کاروں کے لیے غیرمتوقع تھاکہ یہ کیسے ہوگیا،وہ سارا کچھ لاہور اور پنجاب کے لوگوں کی سوچ کا نتیجہ تھا۔ آپ نےاس پر غداری کے مقدمات بنادیے اس پر مقدمات بنادیے لیکن آپ لاہور کے لوگوں کا کیا کریں گے؟
ایاز امیر نےضمنی الیکشن میں ن لیگ کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا دھچکا ن لیگ کو پہنچا اور لندن میں پہنچا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ لاہوریے اور لاہور میں ایسا ہوجائے۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کی تعریف کرتے ہوئےانہوں نے کہا اگر آپ کے لوگ کمزورہوتے توپھر آپ کو بھی نتائج کی سمجھ آجانی تھی لیکن آپ کے لوگ اس دن مضبوطی سے ڈٹےتھے۔









