عمران خان شہباز گل کے پیچھے کھڑے ہوگئے، اسپتال بھی گئے ریلی بھی نکالیں گے
عمران خان نے شہباز گل سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک گیر جلسوں کا اعلان کر دیا ہے ، لائیو خطاب بھی کریں گے۔
اسلام آباد: سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اپنے چیف آف اسٹاف شہباز گل سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک گیر ریلیوں کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ "وہ شہباز گل سے اظہار یکجہتی کے لیے کل اسلام آباد میں ایک ریلی کی قیادت کریں گے اور ملک بھر کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
الیکشن کمیشن کا عمران خان، فواد چوہدری، اسد عمر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری
ممنوعہ فنڈنگ کیس: ایف آئی اے کا 3 نوٹسز کے بعد عمران خان کو گرفتار کرنے کا امکان
عمران خان نے مختصر پریس کانفرنس اس وقت کی جب وہ وفاقی دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں شہباز گل سے ملنے کے لیے گئے ، تاہم انتظامیہ نے انہیں ملنے سے روک دیا ، انتظامیہ کا کہنا ہے کیس عدالت میں اس لیے عدالتی احکامات کے بغیر ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اپنی پریس کانفرنس میں عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ موت کو ترجیح دیں گے مگر موجودہ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
اس سے قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ "پولیس کی حراست میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔”
تمام تصاویر+ویڈیوز میں واضح ہےکہ جنسی زیادتی سمیت گِل کو ذہنی وجسمانی تشدد کا نشانہ بنایاگیااور وہ بھی ایسےبھیانک طریقےسےکہ جسکاموازنہ تک ممکن نہیں۔اسےتوڑنےکیلئےاسکی بدترین تضحیک کی گئی۔ مجھےاب مکمل تفصیلات موصول ہوچکی ہیں۔اسلام آباد پولیس کامؤقف ہےکہ اس pic.twitter.com/wd3BX8oxkE
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) August 19, 2022
پی ٹی آئی کے چیئرمین نے مزید لکھا ہے کہ "تمام تصاویر اور ویڈیوز سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے، جو انتہائی بھیانک ہے۔”
عمران خان نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ "اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔ چنانچہ میرا سوال ہے کہ: تشدد کیا کس نے؟عوام میں بڑے پیمانےپر یہ عمومی تاثرموجود ہےکہ ایسا بھیانک تشدد کر کون سکتا تھا اور یہ ہمارے ذہنوں میں بھی ہے۔ یاد رکھو عوام ردعمل دینگے۔ ہم ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔”
اسلام آباد پولیس کی جانب سے آج غداری کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کو مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا ، تاہم عدالت نے شہباز گل کی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں پمز اسپتال بھیجنے کا حکم دیا ، اور ریمانڈ کی استدعا پیر تک کے لیے ملتوی کردی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی جانب سے محفوظ فیصلہ سنایا گیا ، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شہباز گل کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے گل کی پولیس حراست سے رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور بار بار دعویٰ کیا ہے کہ پولیس حراست میں ان پر تشدد کیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پی ٹی آئی رہنما کے حوالے سے رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اڈیالہ جیل میں مبینہ طور پر طبیعت خراب ہونے کے بعد شہباز گل اس وقت پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس کے بعد شہباز گل کی حالت جاننے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔









