تین ماہ قبل اغوا ہونے والی12سالہ عیسائی لڑکی مشکلات کا شکار، والدین کی مدد کی اپیل
عیسائی لڑکی زرویہ کے والدین نے کہا کہ ہمارے پڑوسی40 سالہ عمران نے12سالہ بیٹی کواغوا کرکے جبری مسلمان کرکے شادی کرلی جبکہ عدالتیں بھی ملزمان کے ساتھ دے رہی ہیں، زرویہ نے فون پر والدین سے مدد مانگ لی

پنجاب کے شہر فیصل آباد سے 3 ماہ قبل اغوا ہونے والی عیسائی لڑکی زرویہ کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی 12 سالہ بیٹی کے اغوا کیا گیا گیا اسے زبردستی مسلمان کرکے چالیس سالہ شخص نے اس سے شادی کرلی ہے ۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک وڈیو میں مغوی زرویہ کے والدین نے کہا کہ ان کی 12 سالہ بیٹی کو3 ماہ قبل ہمارے پڑوسی گھر سے اغوا کرکے لے گئے جس پر ہم نے تھانے میں رپورٹ درج کروائی تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے
دعا زہرا کیس: پولیس کی چارج شیٹ میں ظہیر احمد پر ریپ کے الزامات عائد
انہوں نے بتایا کہ عمران نامی پڑوسی کے گھر والوں کا ہمارے گھر آنا جانا تھا تاہم وہ ہر وقت لڑائی جھگڑا کرتے تھے جس پر انہیں اپنے گھر آنے سے منع کیا ۔ تین ماہ قبل ان کے گھر کی ایک عورت ہمارے گھر آئی اور بازار سے سامان لینے کے بہانے میری بیٹی کو ساتھ لے گئی۔
Christian girl #Zarvia, 12, was abducted from Faisalabad three months ago. Girl’s parents said in video that their daughter tried to contact them by phone and told them that she was kidnapped.
Court allowed the girl to go with those who kidnapped her.
— Veengas (@VeengasJ) August 20, 2022
زرویہ نے والدین نے بتایا کہ کافی دیر گرزنے کے بعد جب زرویہ گھر نہ آئی تو پھر پولیس سے رجوع کیا گیا تاہم پولیس نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا اور ہماری کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی گئی ۔
مقدمہ عدالت گیا تو عدالت نے 12 سالہ لڑکی زرویہ کی چالیس سالہ شخص سے شادی کو جائز قرار دیا اسے زبردستی اغوا کاروں کے حوالے کردیا جبکہ بچی کو اغوا کیا گیا ہے ۔
12 سالہ مغوی زرویہ کےوالدین کے مطابق زرویہ نے ایک دن چھپ کر اغوا کاروں کے فون سے ہمیں کال کی اور بتایا کہ اسے زبر دستی اغوا کیا گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ اسے بے ہوش کرکے اغوا کیا گیا ۔
پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ نے 12سالہ عیسائی لڑکی زرویہ کے اغوا پر غم و غصے کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 12 سالہ بچی کو نشہ آوور چیز کھلا کر اغوا کیا گیا۔ زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا۔
Why is this case not getting the same traction as Dua Zehra? This child is 12 years old! When will children belonging to minorities be given the same importance ? She was drugged, kidnapped and forcibly converted. Please share. #zarvia pic.twitter.com/1nGaklFoEh
— Ushna Shah (@ushnashah) August 21, 2022
ٹوئٹر پیغام میں اشنا شاہ نے کہا کہ ملک میں کب اقلیتوں کو برابری کے حقوق ملیں گے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ زرویہ کے کیس کو کیوں دعا زہرا کیس کی طرح نہیں دیکھا جا رہا ہے ۔ ؟
دلیپ کمارکوہلی نامی ٹوئٹرہینڈل سے بھی زرویہ کے اغوا کےخلاف آؤاز اٹھائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک شرمناک فعل ہے جو پاکستانی عدالت میں جج کے ذریعے ہوا۔
This is a shameful act happened in Pakistani court by Judge.
Save #Christian Minor underage girl named #Zarvia .#StopForcedConversions#SaveMinoritiesInPakistan https://t.co/7yMeL3qGMv— Dileep Kumar Kolhi🇵🇰 (@dileep_kolhi) August 21, 2022
دلیپ کمار کوہلی نے حکومت پاکستان اور انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ زرویہ نامی کرسچن نابالغ لڑکی کو بچائیں۔پاکستان میں اقلیتوں کو بچائیں۔ جبری تبدیلی مذہب کو روکا جائے ۔









