کیا وزیراعظم دورہ قطر میں عمران خان کی طرح پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کریں گے؟
قطر دورے کے دوران پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ شہاز شریف کے عمومی خطاب سے معلق کوئی ایجنڈا سامنے نہیں آیا ، جیسا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ قطر کے دوران کیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف ملک کی معاشی مشکلات کے سدبات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کے لیے دو روزہ سرکاری دورے پر قطر میں موجود ہیں۔
اپنے دورہ قطر کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے قطری قیادت اور مقامی اور پاکستانی تاجر برادری سے بات چیت کی۔ تاہم پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ان کی عمومی بات چیت کے حوالے سے ابھی تک کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا جیسا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2019 میں اپنے دورہ قطر کے دوران پاکستان کمیونٹی سے خطاب کیا تھا۔
تجارت، سرمایہ کاری کانفرنس
ریڈیو پاکستان کے مطابق دوحہ میں ” پاکستان قطر تجارت اور سرمایہ کاری کی گول میز کانفرنس 2022 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ "پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں ، جن میں فوڈ سیکیورٹی، توانائی سمیت قابل تجدید ذرائع، زراعت ، لائیو اسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مہمان نوازی اور سیاحت کے شعبے شامل ہیں۔”
یہ بھی پڑھیے
فواد چوہدری پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں اور وزرا پر برس پڑے
پاکستان پر غلطی سے میزائل داغنے کے ذمے دار بھارتی فضائیہ کے 3افسر برطرف
وزیر اعظم نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کے چیدہ چیدہ اقدامات پر روشنی ڈالی ۔
انہوں نے باہمی احترام، اعتماد اور حمایت پر مبنی پاک قطر تعلقات کی خصوصی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے قطری حکومت کو ایک قابل اعتماد پارٹنر قرار دیا اور ان کی حکومت کی حمایت کرنے پر دل کی گہرائیوں اے شکریہ ادا کیا۔
گول میز کانفرنس کے دونوں ممالک کے مشترکہ وفد نے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں بنیادی تعاون کے نئے شعبوں کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ کاروبار سے کاروبار کے درمیان مضبوط روابط قائم ہو سکیں۔
پاکستانی وفد کی جانب سے وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر، کیو ایف سی کی چیف بزنس آفیسر الانود بن حمد التھانی، اعزازی سرمایہ کاری کونسلر کے ممبر محسن مجتبیٰ، اور پاکستان بزنس کونسل کے صدر ڈاکٹر جاوید اقبال شرکت کی۔
گول میز کانفرنس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے معروف قطری اور پاکستانی تاجر رہنماؤں سے بات چیت کی۔
قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی
وزیراعظم شہباز شریف نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان کے توانائی ، ہوا بازی ، زراعت اور لائیو اسٹاک ، میری ٹائم ، سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔

وہ منگل کو دوحہ میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے پاکستان کے منفرد جغرافیائی اور دستیاب قدرتی وسائل پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے پاکستان کی آزاد اور ماحول دوست اور سرمایہ کاری کی پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے قطری سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ علاقائی روابط اور باہمی خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے فائدہ اٹھائیں۔
قطر کی تیز رفتار اقتصادی ترقی اور امیر قطر کی وژنری قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر گرم سیاسی تعلقات کو ایک جامع اقتصادی شراکت داری کو بڑھانا چاہتا ہے۔
ہم منصب سے ملاقات
پاکستان اور قطر نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ مفاہمت دوحہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے قطری ہم منصب شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پائی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان روابط کی بڑھتی ہوئی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
شہباز شریف نے اپنے ملک میں مقیم پاکستانیوں کی دیکھ بھال پر قطری قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بات چیت
وزیراعظم شہباز شریف کے پاکستانی کمیونٹی سے عوامی خطاب کے حوالے سے ابھی تک کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا جیسا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے جنوری 2019 میں اپنے دورہ قطر کے دوران کیا تھا۔
Spectacular crowd tonight in Doha! The first jalsa of @ImranKhanPTI as Prime Minister dedicated for Overseas Pakistanis goes on to show this government is a game-changer for Pakistanis across 🌎. Thankyou Doha!#PMIKVisitsQatar pic.twitter.com/ANkGpWX9wX
— Sayed Z Bukhari (@sayedzbukhari) January 22, 2019
اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے "واکرا اسٹیڈیم” میں 15 ہزار پاکستانیوں سے خطاب بھی کیا تھا۔ پاکستانی کمیونٹی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کو پرجوش انداز میں استقبال بھی کیا تھا۔
تاہم، وزیر اعظم شریف نے بظاہر پاکستانی کمیونٹی سے ان کے مسائل سننے اور ملک میں بحران کے خاتمے کے لیے اپنی حکومت کی حکمت عملی سے آگاہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔









