شہباز گل پر تشدد ، جیل انتظامیہ نے رپورٹ نہ کرکے کوتاہی کی ، عدالت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ پولیس سے انکوائری کرائیں کے شہباز گل کے جس پر اڈیالہ جیل میں منتقلی سے قبل زخم کیسے آئے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے جسم پر زخموں کے نشانات کے حوالے سے انکوائری کا حکم دیا ہے ، حکم میں کہا گیا ہے کہ انکوائری اسلام آباد پولیس کرے گی ، اس پر رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سے انکوائری کا کہا گیا جو اس کے ذمے دار ہیں۔

عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ سنٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی کے رجسٹر/ریکارڈ میں درخواست گزار کے جسم پر کچھ زخموں اور دیگر نشانات کا ذکر ہے جب اسے (شہباز گل) کو (جیل) کے اندر لے جایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں بلدیاتی انتخابات دوسری مرتبہ ملتوی کردیئے گئے

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے لیے ایک دن میں دو خوشخبریاں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم لکھا ہے کہ پاکستان میں جیلوں کی نگرانی اور نظم و نسق کے لیے جیل کے ضابطے 20 کے مطابق جب کسی قیدی کے جسم پر زخموں کے نشانات پولیس حراست آئیں تو جیل میں ڈالنے سے قبل میڈیکل آفیسر کے ذریعے اس کا فوری معائنہ کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ "یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ فراہم کردہ تفصیلات میں کچھ غیرواضح زخموں کا پتہ چلا ہے جو قیدی کے ساتھ موجود میڈیکو لیگل رپورٹ میں پہلے سے درج نہیں تھے۔

عدالتی حکم کے مطابق ایک رپورٹ فوراً سیشن جج اور پراسیکیوشن کے افسر انچارج اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو دی جانے چاہیے تھی۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ میڈیکل آفیسر نے درخواست گزار کے جسم پر مخصوص نشانات کا ذکر کیا ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں مزید لکھا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ اس پر مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیوں کہ سیشن جج یا سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے دفتر تک بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔

اس لیے عدالت ایڈووکیٹ جنرل کو حکم دیتی ہے کہ آپ پولیس سے سارے معاملے کی انکوائری کرائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر طنز کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ” ماشااللہ عزت مآب جج صاحبان کو ٹارچر کا اتنا خیال ہے کہ انہوں نے ٹارچر کرنے والوں کو حکم دیا کہ وہ پوچھیں کہ انہوں نے شہباز گل کو ٹارچر کیا یا نہیں؟ ماشااللہ۔”

متعلقہ تحاریر