ریاست کو عمران خان کی سیکورٹی سستی اور نواز شریف کی مہنگی ترین پڑی

آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیکورٹی پر سالانہ 24 کروڑ اور نواز شریف کی حفاظت پر سالانہ ساڑھے چار ارب خرچ ہوتے تھے۔

آئی جی پولیس اسلام آباد نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حفاظت پر سالانہ 24 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں جب کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سیکیورٹی پر ساڑھے چار ارب خرچ ہوتے تھے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت ہوا،جس میں آئی جی پولیس اسلام آباد نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیکیورٹی پر تنخواہوں سمیت تقریبا سالانہ 24 کروڑ کا خرچہ ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انجلینا جولی کی نقل اتارنے پر سوشل میڈیا پر مریم نواز کی ٹرولنگ

نواز شریف کے ترجمان نے عمران خان پر دہشتگردی کے مقدمے کو غلط قرار دیدیا

آئی جی اسلام آباد کے مطابق ان کی سیکیورٹی پر دو پرائیویٹ کمپنیوں کے علاوہ خیبر پختون خوا ، اسلام آباد ، گلگت بلتستان پولیس ، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے تقریبآ 266 اہلکار ان کی حفاظت پر تعینات ہیں جو ایک ہی کمانڈ کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیکیورٹی پر بھی ساڑھے چار ارب روپے کا خرچہ آتا تھا اور ان کی سیکیورٹی پر 2200 اہلکار مامور ہوتے تھے۔

آئی جی پولیس اسلام آباد نے بتایا کہ سابق تین وزرائے اعظم  شاہد خاقان عباسی ، راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کی حفاظت پر 5 سے زائد سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوتے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے آئی جی پولیس اسلام آباد کو سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے دوبارہ ٹھرڈ اسسمنٹ کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو معلوم ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔

جس پر آئی جی پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو سیکیورٹی خطرات لاحق ہونے پر 266 سیکیورٹی اہلکار ان کی خفاظت کرتے ہیں۔ عمران خان اگر ضمانت پر بھی جاتے ہیں تو پولیس ان کے ہمراہ ہوتی ہے۔

چیف کمشنر نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ دو پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس معمولی غلطی کے باعث منسوخ کئے گئے لیکن وہ ابھی بھی کام کررہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لائسنس منسوخی کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہے۔ وزارت داخلہ چاہتی ہے کہ ان دو پرائیویٹ کمپنیوں کو تبدیل کردیا جائے۔

متعلقہ تحاریر