عمران خان اپنے حریفوں کیلیے خوف کی علامت بن رہے ہیں، فارن پالیسی میگزین
شہباز شریف اور پاکستانی فوج میں موجود ان کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ عمران خان انتخابات میں کلین سویپ کرسکتے ہیں،خان کی بیان بازی بھٹو سے مشابہہ ہے، پاکستان اور امریکا کو یہ سوچنا ہوگا کہ بھٹو کے بھوت سے کیسے بچنا ہے، مضمون

عالمی جریدے فارن پالیسی نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان اپنے سیاسی حریفوں کے لیے خوف کی علامت بن رہے ہیں۔
فارن پالیسی میگزین میں 31 اگست کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا گیا ہے کہ اس تنازع میں کشش ثقل کا مرکز پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان ہیں، جو اپریل میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے معزول ہونے کے بعد سے جلد از جلد عام انتخابات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مجھے کچھ ہوا تو رجیم چینج کے چار کرداروں کو عوام نہیں چھوڑے گی، عمران خان
کیا صحافیوں کا چیف جسٹس کے طرز عمل پر سوال اٹھانا توہین عدالت نہیں؟
وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ مخلوط حکومت عمران خان کے دباؤ کا مقابلہ کررہی ہے۔شہباز شریف اور پاکستانی فوج میں ان کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف پہلے نمبر پر آ سکتی ہے یا انتخابات میں کلین سویپ بھی کر سکتی ہے۔
ان کے خدشات درست ثابت ہو رہی ہیں۔ قومی سطح پر اقتدار کھونے کے بعد سے عمران خان کی جماعت نے سڑکوں اور بیلٹ باکس میں زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے تقریباً ہر دوسرے ہفتے ایک کے بعد ایک شہر میں زبردست ریلیاں نکالی ہیں اور اس نے صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہاں تک کہ پیر کو بحال ہونے والے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام کے باوجود پاکستان میں معاشی حالات کم از کم اگلے سال تک غیر یقینی سے دوچار رہیں گے۔
آئی ایم ایف اور دیگر دوطرفہ اور کثیر جہتی شراکت داروں سے آنے والی رقوم پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی کو دور کرنے اور ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد فراہم کرے گی لیکن آئی ایم ایف نے اگلے جون میں ختم ہونے والےرواں مالی سال میں افراط زر کی شرح 20 فیصد کے لگ بھگ رہنے کا اندازہ لگایا ہے جس کے باعث شریف حکومت کے لیے عام انتخابات سے قبل عوامی حمایت حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ (عام انتخابات اکتوبر 2023 تک ہونے چاہئیں لیکن عمران خان اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند ہیں اور اسی سال انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں )۔
عالمی میگزین نے عمران خان کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے بھی تشبیہ دی اور لکھا،”عمران خان کی بیان بازی پاکستانی فوج کے ایک اور سابق منظور نظر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے مشابہت رکھتی ہے۔“
فارن پالیس میں شائع ہونےو الے مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران نہ صرف شریف حکومت اور پاک فوج کے اعلیٰ افسران کے لیے بلکہ امریکا کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔عمران خان کا دعویٰ ہے کہ انہیں حکومت کی تبدیلی کی امریکی سازش کے ایک حصے کے طور پر بے دخل کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے پاکستان میں امریکی فوج کے قیام کے حقوق دینے سے انکار کر دیا تھا۔گوکہ ان کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں لیکن بہت سے پاکستانی انہیں سچ مانتے ہیں ۔مئی کے آخر اور جون کے شروع میں کیے گئے سروے میں 46 فیصدافراد نے ان کے زوال کی وجہ”غیر ملکی سازش“ کو قرار دیاتھا۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ خطے میں امریکی سرگرمیوں کی پائیدار رازداری صرف ایک سازش کے مقامی شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتی ہے۔گزشتہ ماہ افغانستان میں کئی ڈرون حملے ہوئے ہیں، جن میں ایک مبینہ طور پر سی آئی اے کی طرف سے کیا گیا تھا جس میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ ڈرون نے کہاں سے اڑان بھری اور افغانستان کی فضائی حدود میں کیسے پہنچا لیکن ان حملوں کا وقوع پذیر ہونا کچھ لوگوں کے اس یقین کو پختہ کر دیتا ہے کہ عمران خان کی برطرفی کے بعد پاکستانی فوج نے امریکا کو اڈے یا فضائی حدود استعمال کرنے کے حقوق دیے ہیں ۔
اگرچہ پاکستان ان دنوں واشنگٹن میں زیادہ تر لوگوں کے ریڈار سے دور ہے، لیکن امریکا پاکستان میں اندرونی طاقتوںکی کشمکش میں الجھا ہوا ہے۔ اور اس کے اجزا۔۔۔ ایک مشہور قوم پرست سیاست دان جو امریکا سے متصادم ہے اور ایک پرجوش جنرل جو اسے ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔۔۔ملک کے المناک ماضی کے ساتھ نغمہ سرا ہیں۔
مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کو اب بھی فوج کی زیادہ تر اعلیٰ قیادت، ممتاز سابق افسران اور حاضر سروس افسران کی ایک نامعلوم تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن ان کی بیان بازی بھی فوج کے ایک سابق منظور نظر مرحوم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے مشابہت رکھتی ہے جو 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جنرل ایوب خان کے دور میں پروان چڑھے اور بالآخر جنرل کے خلاف ہو گئے۔ پاکستان کی ساڑھے5 سال قیادت کرنے کے بعد 1979 میں جنرل محمد ضیا الحق کے دور حکومت میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کوئی بڑی طاقت نہیں ہے، اس کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ لیکن یہ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور ایٹمی طاقت ہے۔ نہ امریکہ اور نہ ہی پاکستان مستقل دراڑ کے متحمل ہو سکتے ہیں ۔آخر کار دونوں ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھٹو کے بھوت سے کیسے بچنا ہے۔









