وزیر اعظم پہلے ایک ہزار میگا واٹ کا بہاولپور سولر پلانٹ چلا لیں پھر 10ہزار میگاواٹ کا منصوبہ بھی بنالینا
وزیراعظم شہبازشریف نے شمسی توانائی سے10 ہزارمیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے عزم کا عہد کیا تو ماہرین نے سوال اٹھایا کہ اربوں کی کی سرمایہ کاری سے بنائے گئے بہاولپور کا قائد اعظم سولر پارک چلتا نہیں مزید منصوبے کیسے کام کریں گے، وزیراعظم پہلے بہاولپور کا منصوبہ چلا لیں پھر 10 ہزار میگاواٹ کا منصوبہ بھی بنا لینا

وزیراعظم شہباز شریف نے شمسی توانائی سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے عزم کا عہد کرتے ہوئے منصوبے کے حوالے سے جلد پری بڈ کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں شمسی توانائی سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری عمارتوں اور ڈیزل پر چلنے والے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
ایوان صدر نے شمسی توانائی سے2سال میں 10 کروڑ 80 لاکھ روپے بچائے
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ملک میں ڈیزل، کوئلہ اور فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹس کو مرحلہ وار سولر پینل پر منتقل کردیا جائے گا جس سے عوام کو ریلیف ملے گا اور ملک کو زرمبادلہ کی مد میں بڑی بچت ہوگی ۔
As part of a plan to generate 10,000 MW solar power, we decided today to call pre-bid conference of all stakeholders next week. Govt buildings & tube wells running on diesel will be shifted to solar.Power plants operating on diesel, coal & furnace oill will be partially replaced.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) September 1, 2022
تاہم دوسری جانب مسلم لیگ نون کی حکومت کی جانب سے بہاولپورمیں بنائے قائد اعظم سولر پارک سے بجلی کی پیداوار بند ہوچکی ہے۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے 2015 میں اس منصوبے کا افتتاح کیا تھا ۔
قائد اعظم سولر پارک منصوبے کے حوالے سے نون لیگ دعویٰ کرتی رہے کہ اس سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی بنائی جائے گی تاہم اطلاعات کے مطابق اس منصوبے سے صرف 200 میگا واٹ تک بجلی کی پیداوار ہو رہی ہے ۔
حکومتی دعوے کے مطابق نیشنل گرڈ میں شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی صرف 430 میگا واٹ بجلی شامل ہوتی ہے جبکہ بہاولپور منصوبے پر 16 سے 20 ارب روپے کے درمیان کے اخراجات ہو چکے ہیں تاہم حاصل وصول کچھ نہیں ہو رہا ہے ۔
ذرائع کے مطابق بہاولپور میں غیر معیاری سولر پینلزنصب کرنے سے اس منصوبے کی پیداوار مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں جبکہ جگہ کے غلط تعین کی وجہ سے پینلز کی صلاحیت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے شمسی توانائی کے نئے منصوبے کے اعلان پر ماہرین نے کہا کہ حکومت پہلے اپنے ہی لگائے گئے قائد اعظم سولر پارک کو صحیح طریقے سے چلا لیں تو پھر کسی اور منصوبے پر توجہ دی جائے ۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی حکومت کا انقلابی اقدام ، 10700 اسکولز شمسی توانائی پر منتقل
انرجی امور کے ماہرین نے کہا کہ شہباز شریف نئے منصوبے ضرور لگائیں تاہم اربوں روپوں کے اخراجات کرکے لگائے گئے بہاولپور سولر پارک ہی چلا لیں تاکہ قوم کو لوڈ شیڈنگ سے نجات مل پائے ۔
شمسی توانائی کے ماہرین کاکہنا ہے کہ شہبازشریف کا10ہزار میگا واٹ شمسی بجلی کی پیداوار کا بیان بظاہر سیاسی بیان لگتا ہے کیونکہ اس سلسلے میں کڑی محنت درکار ہے جبکہ حکومت اپنا ہی سولر پارک نہیں چلا پا رہی ہے ۔
شمسی توانائی کے حوالے ماہرین نے حکومت کو رائے دی کہ پہلے بہاولپور سولر پارک کو مکمل طور پر چلایا جائے تو ملک میں لوڈ شیڈنگ میں کمی آئے گی تاہم نا اہلی کی باعث بہاولپور منصوبہ کام نہیں کر پا رہا ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ پر جہاں ایک طرف توانائی امور کے ماہرین نےانہیں آڑے ہاتھوں لیا وہیں سوشل میڈیا صارفین بھی وزیر اعظم سے سوالات پوچھنے لگیں ہیں۔
ایک ٹوئٹر صارف حماد قریشی نے کہا کہ جو پاور پلانٹس پہلے ہیں وہ کہاں جائیں گے ؟ اس کے چارجز تو ہم نے ہی دینے ہیں ۔
جو پاور پلانٹس پہلے ہیں وہ کہاں جاہیں گے ؟ اس کے چارجز ہم نے دینے ہیں
— Emaad Qureshi (@Emaadqureshi) September 2, 2022
ایک اور صارف نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب گورنمنٹ کے پیسے مت لگاؤ۔ آپ سولر پینل کی فیکٹری لے آؤ اور سبسڈی یا آسان اقساط میں گھروں کو سولر سسٹم پر بجلی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرو۔ اس سے اگلے 5سالوں می 10 کی بجائے 20 ہزار میگاواٹ بن سکتے ہیں۔
جناب گورنمنٹ کے پیسے مت لگاؤ آپ سولر پینل کی فیکٹری لے آؤ اور سبسڈی یا آسان اقساط میں گھروں کو سولر سسٹم پر بجلی پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرو۔
اس سے اگلے 5سالوں می 10 کی بجائے 20 ہزار میگاواٹ بن سکتے ہیں— ZEESHAN (@BetterFuturr) September 1, 2022









