سیلاب کی تباہ کاریاں جاری: حکومت فلڈ کمیشن کا اعلان کرکے سو گئی

29 اگست کو حکومت نے ملک میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے " نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر" قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رواں ہفتے کے شروع میں شہباز شریف حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا جائے گا، جیساکہ کورونا وبا کے وقت این سی او سی کا ادارہ بنایا گیا تھا مگر وہ اعلان تاحال اعلان تک محدود ہے عملی طور پر اس کی کوئی شکل دکھائی نہیں دے رہی۔

اندرون ملک اور بیرون ممالک سے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ایک واویلا مچایا ہوا ہے کہ ہمیں متاثرین کی بحالی کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن جس کوآرڈینیشن سینٹر کے ذریعے امداد کو لوگوں تک پہنچانا ہے اس کا کہیں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ واویلا مچایا ہوا ہے کہ تباہی ہو گئی بربادی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی عدلیہ کو مضبوط کریں گے اور ہمیشہ عزت کریں گے، عمران خان

وزیر اعظم پہلے ایک ہزار میگا واٹ کا بہاولپور سولر پلانٹ چلا لیں پھر 10ہزار میگاواٹ کا منصوبہ بھی بنالینا

گزشتہ روز کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک سیلابی پانی میں ڈوب کر 1208 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 6 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ 7 لاکھ 33 ہزار سے زائد مویشی پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ 11 لاکھ 72 ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

National Flood Response and Coordination Center and flood victims

29 اگست کو حکومت نے ملک میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ” نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر” قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا تھا، اجلاس وزیراعلیٰ بلوچستان ، وفاقی وزراء ، آرمی چیف اور مسلح افواج کے سربراہان سمیت تمام صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی۔

اجلاس کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) کے چیئر مین نے ملک میں سیلاب کی صورتحال، ریسکیو اور ریلیف سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی تھی۔

National Flood Response and Coordination Center and flood victims
news 360

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف واویلا مچانے سے مسئلے حل نہیں ہوں  گے ، کمیٹی تشکیل دی گئی یا نہیں؟ اگر دی گئی ہے تو ڈے ٹو ڈے اس کی کیا کارکردگی ہے؟ جبکہ عمران خان کے دور حکومت میں تشکیل دی گئی این سی او سی کی بریفنگ آتی ہوتی تھی جس آج تک جاری ہے ، وفاقی وزیر اسد عمر اور ڈاکٹر فیصل سلطان روزانہ کی بنیادوں پر بریفنگ دیتے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں اتنی بڑی تباہی آئی ہوئی ہے مگر یہاں تو حکومت صرف ہے کہ اعلان کرکے بھاگ گئے کہ نیشنل فلڈ کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی ، اس کا مطلب ہے کہ جب ایک قدرتی آفت جو پاکستان نہیں پوری دنیا میں آئی تھی مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے بہترین حکمت اپناتے ہوئے اس آفت کے خلاف اقدامات کیے تھے ، اور اس آفت کے بڑھتے ہوئے اثرات کو زائل کیا تھا۔

واضح رہےکہ گزشتہ دنوں اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان میں اس وقت جتنی بھی این جی اوز ہیں یا مختلف امدادی ادارے ہیں وہ اپنے طور پر کام کررہے ہیں ، حکومت سطح پر انہیں کوئی گائیڈ لائن نہیں دی جارہی۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا ہے اخوت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو پکا پکایا کھانا ، راشن اور چار ہزار روپے نقد ادا کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے ان کی فاؤنڈیشن سیلاب متاثرین کو گھروں کی تعمیر کے لیے ڈیرھ لاکھ روپیہ قرض حسنہ دے گی۔

متعلقہ تحاریر