وزارت دفاع کا ریٹائرڈ فوجی افسران کی تنظیموں سے لاتعلقی کا اعلان

وزارت دفاع پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی اور ویٹرنز آف پاکستان کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ   ہی سابق فوجیوں کی سوسائٹی ہونے کی دعویدار ایسی انجمنوں کی سرگرمیوں کی توثیق کرتی ہے،اعلامیہ

 وزارت دفاع نے ریٹائرڈ فوجی افسران کی تنظیموں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی اور ویٹرنزآف پاکستان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اصولوں کی تعمیل نہ کرنے والی نام نہاد انجمنیں مجرم تصور کی جائیں گی اور انہیں تعزیری نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جمعے کو جاری کردہ اعلامیے  میں کہا  گیا ہے کہ وزارت دفاع پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی اور ویٹرنز آف پاکستان کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ  ہی سابق فوجیوں کی سوسائٹی ہونے کی دعویدار ایسی انجمنوں کی سرگرمیوں کی توثیق کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان اپنے حریفوں کیلیے خوف کی علامت بن رہے ہیں، فارن پالیسی میگزین

کیا صحافیوں کا چیف جسٹس کے طرز عمل پر سوال اٹھانا توہین عدالت نہیں؟

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ انجمنیں خیراتی مقاصد، سیلاب زدگان کی امداد کیلئے  فنڈز کی درخواست کرتی ہیں، یہ انجمنیں عوامی خدمات یا اپنے خیالات کی ترویج کیلئے حمایت کی درخواست کرتی ہیں، سابق فوجیوں کی ایسی نام نہادانجمنیں مسلح افواج سے وابستگی کاغیر قانونی دعویٰ کرتی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ایسی انجمنوں کو نہ تو تسلیم کیا گیا نہ ہی اس کی اجازت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ  سابق فوجیوں کی انجمنوں کے کام کرنےکی جامع پالیسی اور رہنما اصول مرتب کیے چکے ہیں  جوکہ مزید مشورے اور رہنمائی کیلیے وزارت دفاع کے دفتر میں بھی دستیاب ہیں لہٰذا پالیسی کے رہنما اصولوں کی تعمیل نہ کرنےوالے افراد کی کوئی بھی تنظیم مجرم تصور ہوگی۔وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایسی تنظیم کو تعزیری نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متعلقہ تحاریر