عمران خان ، مریم نواز اور آصف زرداری سبھی فوج کے کردار پر سوالات اٹھاتے رہے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے چیئرمین تحریک انصاف سے قبل نائب صدر ن لیگ اور کوچیئرمین پیپلز پارٹی سمیت سبھی پاک فوج کے کردار پر زبان درازی کرتے رہے ہیں تو اس مرتبہ اتنا شدید ردعمل کیوں؟۔
سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے فیصل آباد جلسے میں بیان پر ترجمان پاک فوج نے شدید ردعمل دیا ہے اس سے قبل عمران خان کے بیان سے ملنے جلتے بیانات مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور فوجی قیادت کے خلاف بیانات سامنے آتے رہے ہیں تو پھر فرق کیا ہے۔
گزشتہ روز عمران خان کے بیان کے ردعمل پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے پریس جاری کی گئی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ تمام جنرل میرٹ پر آتے ہیں بلکہ چند ہی لوگ ہوتے ہیں جو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچتے ہیں ، میرٹ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے ، فوج کے تمام افسران اور فوجی محب وطن ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اے آر وائے کے بعد بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ بھی پیمرا کے نشانے پر آگیا
عمران خان سنگین بہتان تراشی کرکے عوام کو فوج سے لڑانا چاہتے ہیں، حکومتی اتحاد
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی ، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں نے اپنے اپنے بیانات میں عمران خان کے بیان کی مذمت کی اور کہا تمام فوج محب وطن ہے ، فوج مادر وطن اور قوم کی جان و مال کی حفاظت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر قربانیاں دے رہی ہے۔
مریم نواز اور کوچیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے بیان پر آئی ایس پی آر نے بیان جاری کیا تھا کہ فوج کے کسی بھی افسر سے متعلق ایسی گفتگو سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے جاری بیان میں کہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اس لیے اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ فوج آئین کے تحت حکومت کو جواب دہ ہے۔
گزشتہ دنوں مریم نواز میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں ، ایک صحافی نے جنرل فیض حمید کے بطور آرمی چیف کے سوال پر سخت جواب دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب کہنا تھا کہ "یہ بہت قبل ازوقت بات ہے ، جو شخص اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہو ، اس کا احتساب ہونا چاہیے ، ان کے بڑے بڑے متنازع کام ہیں جو شائد 73 سال کی تاریخ میں نہیں ملتیں ، اب تو ان کا احتساب ہونا چاہیے ، اس قسم کے شخص کو کوئی اور عہدہ دے دینا اور وہ بھی اتنا امپورٹڈ عہدہ دینا میں سمجھتی ہوں یہ قوم ، آئین اور قانون کی حکومت کے منہ پر تماچہ ہوگا۔”
اس وقت اگلے آرمی چیف کے لیے 4 سینئیر ترین افسران میں سے ایک جنرل فیض حمید ہیں
جنرل فیض کو آرمی چیف لگانے کے حوالے سے مریم نواز کا بیان سنیں
اس پر ISPR کا بیان کیوں نہیں آیا؟
— Azhar Mashwani (@MashwaniAzhar) September 5, 2022
اس طرح سابق صدر آصف علی زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے متعلق انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ "فیض حمید بچارہ تو اب کھڈے لائن ہے۔”
فیض حمید بیچارہ تو کھڈے لائن ہے آصف زرداری
جناب @OfficialDGISPR صاحب ۔۔۔ یہاں آپ کو غصہ نہیں آیا ؟ کیا فیض حمید پاک فوج کا جرنیل نہیں ہے ؟؟ وہاں آپ کو غصہ نہیں آتا ؟ pic.twitter.com/fHaO8Emnq4
— Rashid Mehmood (@RashidMkhan79) September 5, 2022
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیان پر بھی آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری ہوا جس میں غصے اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مریم نواز ، آصف علی علی زرداری اور دیگر قیادت کے بیانات پر بھی آئی ایس پی آر کو بیان جاری کرنا پڑا تھا تو پھر فرق کیا ہے۔









