عمران خان کی براہ راست تقاریر پر پابندی سے متعلق پیمرا کا نوٹی فکیشن کالعدم
عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے پیمرا کے نوٹیفکشن کو کالعدم قرار دے دیا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز تاخیری نظام کے تحت ممنوعہ مواد کی نشر روکنے کے پابند ہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئر مین تحریک انصاف عمران خان کی براہ راست تقاریر سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت دکھانے کی اجازت دے دی ہے جبکہ پیمرا کے نوٹیفکشن کو کالعدم قرار دے دیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی براہ راست تقاریرپرعائد ختم کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت دکھانے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان کی تقریر پر پابندی، اسلام آباد ہائیکورٹ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم
عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 3صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی چینلز تاخیری نظام کے تحت ممنوعہ مواد کی نشر روکنے کے پابند ہیں۔
عدالت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو قانون کے تحت کام کرنے کی ہدایات جاری کیں اور سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ریگولیٹ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ۔
پیمرا حکام نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو جاری شوکاز کا مقصد صرف ان کی تقاریر ڈیلے کرنا تھی۔ ہماری ہدایت کسی مخصوص شخص کے لیے نہیں تھی ۔
یاد رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی براہ راست تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی ۔
پیمرا کی پابندی کے خلاف تحریک انصاف کے چیئرمین نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر 29 اگست کو عمران خان پر عائد پابندی عارضی طور پر 5 ستمبر تک معطل کردی تھی ۔









