توہین عدالت کیس: عمران خان کا نظرِثانی شدہ جواب ہائیکورٹ میں جمع

تحریری جواب میں کہا کہ شہباز گِل پر جسمانی تشدد خبروں پر غیرارادی طور پر کچھ الفاظ ادا ہوگئے جن پر مجھے افسوس ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خاتون ڈسٹرکٹ جج کو دھمکی دیئے جانے سے متعلق بیان پر نظرِثانی شدہ جواب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ خاتون جج کا بہت احترام ہے جب کہ غیر ارادی طور پر ادا ہونے والے الفاظ پر انھیں بہت افسوس ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پارٹی رہنما شہباز گل کے ریمانڈ میں توسیع پر خاتون ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  اسلام آباد کو کارروائی کی دھمکی دی تھی ، جس کا اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تحائف کے بدلے 3 کروڑ ادا کیے، توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کا جواب

مریم نواز کا پاسپورٹ کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع

عدالتی نوٹس پر چیئرمین تحریک انصاف نے جو جواب جمع کرایا تھا اس جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں نظر ثانی شدہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے شوکاز نوٹس کے جواب میں آج 19 صفحات پر مشتمل جواب جمع کرا دیا ہے۔

عمران خان نے تحریری جواب میں کہا کہ شہباز گِل پر جسمانی تشدد کئے جانے کی خبر پر ان سے غیرارادی طور پر کچھ الفاظ ادا ہوئے۔ غیرارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر انہیں بہت افسوس ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ میں عدالت اور ججز کی بہت عزت کرتا ہوں ، ججز عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ میرا مقصد خاتون مجسٹریٹ کی دل آزاری کرنا نہیں تھا، ہائی کورٹ اور اس کی ماتحت عدالتوں کے لیے بہت احترام ہے۔ خاتون جج کے احساسات کو ٹھیس پہنچانا مقصد نہیں تھا، پبلک ریلی میں نادانستگی میں ادا کیے گئے الفاظ پر افسوس ہے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ مجھے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، میں نے ہمیشہ اداروں کی عزت پر مبنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاتون جج کو دھمکانے کا ارادہ نہیں تھا، وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوٹس کے جواب میں عمران خان کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ عدالتیں ہمیشہ معافی اور تحمل کے اسلامی اصولوں کو تسلیم کرتی ہیں۔

انہوں نے درخواست کی کہ عدالتِ عالیہ ان کی وضاحت قبول کرتے ہوئے شوکاز نوٹس ختم کردے۔

عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ آئندہ ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لوں گا، نہ تو کبھی ایسا بیان دیا نہ مستقبل میں دوں گا جو کسی عدالتی زیر التواء مقدمے پر اثر انداز ہو،میں عدلیہ مخالف بدنتیی پر مبنی مہم چلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے یا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دیے جانے سے متعلق بیان پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کل آٹھ ستمبر کو ہوگی۔

متعلقہ تحاریر